اوڑی…انفو………وزیر برائے جل شکتی جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور مسٹر جاوید احمد رانا نے شمالی کشمیر کے اوڑی خطے میں سیلاب کے تخفیف اور انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے آج بونیار میں کٹاو¿ اور سیلاب سے تحفظ کے کاموں اور اوڑی قصبہ میںامرت 2.0 کے تحت واٹر سپلائی اسکیم( ڈبلیو ایس ایس ) کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ کٹاو¿ اور سیلاب سے تحفظ کا پروجیکٹ ، جو 18.57 کروڑ روپے کی مالیت کا ہے ، کو جامع فلڈ منیجمنٹ پروگرام ( سی ایف ایم پی ) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے ۔ اس اقدام کا مقصد دریائے جہلم کے کمزور حصوں کی حفاظت کرنا ہے جو 180 کلو میٹر سے 225 کلو میٹر تک ہے ، جہاں دریا کے کنارے کٹاو¿ اور سیلاب کا سب سے زیادہ خطرہ ہے ۔ اس منصوبے میں آر سی سی کی دیواریں اور کریٹ پروٹیکشن ورکس کی تعمیر بھی شامل ہے اور توقع ہے کہ یہ کام 8 ماہ کے اندر اندر مکمل ہو جائے گا ، جس سے جان ، مال اور زرعی اراضی کی حفاظت کر کے درجنوں دیہات کو فائدہ پہنچے گا ۔ اوڑی میں ڈبلیو ایس ایس پروجیکٹ کی بنیاد رکھتے ہوئے وزیر نے اسے اوڑی قصبہ میں صد فیصد پینے کے صاف پانی کی کوریج کے حصول کی طرف ایک تبدیلی کے اقدام کے طور پر بیان کیا ۔ یہ اسکیم جس کی لاگت 6.71 کروڑ روپے ہے سے اوڑی میں 0.55 ایم جی ڈی ریپڈ سینڈ فلٹریشن پلانٹ ( آر ایس ایف پی ) کی تعمیر شامل ہے ، جس میں لگاما میں 0.25 ایم جی ڈی آر ایس ایف پی ، پانی کا ایک نیا ذخیرہ اور موجودہ تقسیم کے نیٹ ورک کو بڑھاوا دیا گیا ہے ۔ ان پروگراموں میں ایم ایل اے اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع ، چیف سنجینئر پی ایچ ای کشمیر اور جل شکتی محکمہ کے اعلیی افسران بھی موجود تھے ۔ بعد ازاں وزیر موصوف نے بونیار پلے گراو¿نڈ اور آفیسر کلب اوڑی میں عوام کے ساتھ بات چیت کی ، جہاں انہوں نے مختلف دیہات سے آئے ہوئے بھاری تعداد میں رہائشیوں اور نمائندوں سے ملاقات کی ۔ بات چیت کے دوران مقامی لوگوں نے روڈ انفراسٹرکچر ، پانی کی فراہمی کے چیلنجوں اور بہتر تعلیمی سہولیات کی ضرورت جیسے معاملات اٹھائے ۔ وزیر موصوف نے لوگوں کے مسائل کو ہمدردی سے سُنا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے جائیز مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔






