سری نگر۔۔۔۴،ستمبر۔۔۔جے کے این ایس۔۔۔۔ دوران شب گرچہ دریائے جہلم اور مختلف ندی نالوںمیں ٹھہراﺅ آگیا اورجمعرات کی صبح سے پانی کی سطح میں بتدریج کمی آنے لگی ،لیکن موسم بہتر ہونے کے باوجود جہلم میں سنگم اور رام منشی باغ کے مقام پر پانی کو خطرے کے نشان سے نیچے آنے میں شام تک لگنے کاامکان ہے ۔اس دوران جنوبی کشمیر ،سری نگر اور بڈگام کے سیلاب زدہ اور زیرآب دو درجن سے زیادہ علاقوں ،بستیوں اور کالونیوں سے تقریباً15000ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا ،اوراس بچاﺅ کاری مہم میں پولیس،دریائی پولیس ،فوج ،این ڈی آرایف ،ایس ڈی آر ایف ،محکمہ مال اور دیگرکئی ایجنسیوںکی 2درجن سے زیادہ ٹیموںنے بھی حصہ لیا۔صوبائی کمشنر کشمیر انشول گرگ اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے دیگر حکام کے ہمراہ سری نگر اور بڈگام اضلاع کے سیلاب زدہ اورزیرآب علاقوںکا دورہ کرکے تازہ صورتحال اور بچاﺅ و امداد کاری کا جائزہ لیا۔سری نگرکے کئی علاقوں بشمول مہجور نگر اورپادشاہی باغ سمیت کئی نزدیکی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔اُدھر کرسو راجباغ کی بستی مسلسل دوسرے روز بھی زیرآب رہی اور یہاں گلی کوچوں اور صحنوںمیں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے لوگ گھروںمیں ہی محصور ہوکررہ گئے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق بدھ کی شام دریائے جہلم میں کئی مقامات بشمول سنگم بجبہاڑہ،پانپور اوررام منشی باغ سری نگرمیں پانی کی سطح یکایک خطرے کے نشانات سے تجاوز کرگئی ،تو پورے شہر سری نگر اور جنوبی کشمیرمیں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔انتظامیہ کی جانب سے جہلم کے نزدیک واقع رہائشی علاقوں کے لوگوں کو محفوظ جگہوں پر جانے کوکہا گیا ،اوراس مقصد کیلئے گاڑیوںمیں لاﺅڈ اسپیکر اور مساجد سے اعلانات کئے گئے ۔لالچوک سمیت پورے سیول لائنز میں بدھ کو دیررات تک افراتفری کاعام رہا ،کیونکہ کوٹ روڑ، گونی کھن ،مہاراج بازار،گھنٹہ گھر،ریگل چوک سمیت کئی اہم بازاروں کے دکانداروںنے 2014کے تباہ کن سیلاب کو یاد کرتے ہوئے دکانات اور گوداموںسے اضافی سامان منتقل کرنے کیلئے گاڑیوں اور لوڈ کیریئروں کا استعمال کیا۔سیول اور پولیس حکام نے بتایاکہ سری نگر کے سیلاب زدہ اور زیرآب آئے علاقوں سے تقریباً ایک سے دو ہزار افراد کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے کیلئے انخلاءمہم شروع کی گئی ،جس میں پولیس،دریائی پولیس ،این ڈی آرایف ،ایس ڈی آر ایف ،محکمہ مال اور دیگرکئی ایجنسیوںکی ٹیموںنے بھی حصہ لیا۔اس دوران جہلم ،فلڈچینل ،اورکئی بڑے نالوںکے نزدیک واقع کئی رہائشی علاقوںسے لوگوںنے بدھ کی رات سے ہی نقل مکانی شروع کردی۔ادھر نزدیکی ضلع بڈگام کے کئی دیہات اور بستیوں میں لوگوںنے بدھ کی رات سے ہی نقل مکانی شروع کردی۔ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے جمعرات کو کہا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں سیلاب سے 35 افراد کو بچایا گیا ہے۔ڈاکٹر بلال محی الدین نے کہا کہ ضلع بڈگام میں متاثرہ علاقوں سے9000 افراد کو نکالا گیا ہے اور 35 لوگوں کو سیلاب کے پانی سے بچایا گیا ہے۔ تمام35 افراد کو امدادی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی مدد کے لیے ہر قسم کی ضروری سہولیات پہلے ہی قائم کر دی گئی ہیں۔انہوںنے بتایاکہ ہمارے پاس ایس ڈی آر ایف کی11 ٹیمیں اور این ڈی آر ایف کی5ٹیمیں سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے میں مصروف ہیں۔ ڈپٹی کمشنربڈگام نے کہاکہ ہماری پوری افرادی قوت اور آلات سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے زمین پر تعینات ہیں۔ڈاکٹر بلال کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سمر بگ اور ٹانگان کے علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر انخلاءاور قریبی محفوظ مقام کی تلاش کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔انہوںنے مزیدکہاکہ ہم نے متاثرہ علاقوں میں پہلے ہی چھ ریسکیو مراکز کو فعال کر دیا ہے، جن میں جی ایچ ایس واگورہ، جی ایچ ایس ایس کھنڈہ، شیخ العالم ایچ ایس واگورہ، جی ایچ ایس ایس بی کے پورہ، اسلامک پبلک ایچ ایس کرالپورہ، اور دار الفتح ڈانگر پورہ شامل ہیں، جہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے شہریوں کو مزید چوکس رہنے کا مشورہ دیا لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔






