سوپور،بانڈی پورہ :۵،ستمبر/ جے کے این ایس /موسمی صورتحال میں بہتری اور مزید بارشیں نہ ہونے کے بعد جہاں دریائے جہلم میں سنگم ،پانپور اوررام منشی باغ سری نگرکے مقام پر پانی کی سطح کافی کم ہوکر خطرے کے نشانات سے نیچے آگئی ہے ،وہیں سوپور اور بانڈی پورہ کے درمیان واقع ایشیا ءکی سب سے وسیع العریض قدرتی آبگاہ ’جھیل وولر‘میں پانی کی سطح خطرے کے نشان قریب پہنچ جانے کے بعد نواحی علاقوںکے زیر آب آنے کااندیشہ بڑھ گیا ہے ۔حکام نے متاثرہ علاقوںمیں جانی نقصان سے بچنے کیلئے فوری اقدام کے بطور لوگوں کاانخلاءشروع کردیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق جیسے جیسے جہلم اور دیگر اہم معاون ندیوں میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی ہے، شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں ولر جھیل میں سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ’بتدریج‘ رہے گا۔جھیل وولر کے آس پاس کے نشیبی دیہات،جہاں بنیادی طور پر ماہی گیر برادریوں کے گھرہیں، اب تک بڑے پیمانے پر متاثر نہیں ہوئے ہیں، حالانکہ پانی کے گرنے کے خدشات برقرار ہیں۔جمعرات کی رات، انتظامیہ نے جہلم اور ولر کے کنارے واقع کلہامہ گاو¿ں کے قریب کچھ خاندانوں کو محفوظ جگہ پر منتقل ہونے پر آمادہ کیا۔تحصیلدار بانڈی پورہ فردوس احمد قادری نے بتایاکہ ہم نے سیلاب کی صورتحال کے لیے نوڈل افسران کو مقرر کیا ہے۔ حالات قابو میں نظر آتے ہیں، حالانکہ کلہامہ گاو¿ں میں خدشات تھے اور چند خاندانوں سے نقل مکانی کی درخواست کی گئی تھی ۔محکمہ اری گیشن وفلڈ کنٹرول کشمیرکی جانب سے جمعہ کی صبح چھ بجے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے جہلم میں سنگم کے مقام پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے نیچے آکر20.54فٹ ریکارڈکی گئی جبکہ پانپورکے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح 5.80میٹر اور رام منشی باغ کے مقام پر یہ سطح 20.59فٹ رہ گئی ہے ،جوکہ خطرے کی سطح سے نیچے ہے ۔تاہم محکمہ آبپاشی وسیلاب کنٹرول کشمیرکے مطابق جمعہ کی صبح عشم سونہ واری کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح14.00فٹ تک پہنچ گئی تھی اور یہا ں پانی کی سطح مزید بڑھ جانے کااندیشہ ہے ۔متعلقہ محکمے کے مطابق جھیل وولر پھول گیاہے ،اور اس جھیل میں صبح چھ بجے تک پانی کی سطح خطرے کے نشان 1578.00کے بالکل نزدیک1576.98میٹر ریکارڈ کی گئی ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ جھیل وولرمیں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے، اوربطور احتیاط چند خاندانوں کو منتقل کیا گیا ہے، لیکن صورت حال معمول کے مطابق دکھائی دیتی ہے کیونکہ کمیونٹی میں ایسی کوئی گھبراہٹ نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملحقہ گاو¿ں والے بھی چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن روزمرہ کے کام کے معمولات متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ ایگزیکٹیو انجینئر اریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول بانڈی پورہ، مطیب بشیر شاہ نے گریٹر کشمیر کو بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ جھیل وولر میں پانی کی سطح بتدریج بڑھے گی۔ محکمہ آبپاشی وسیلاب کنٹرول کشمیر نے، ضلعی انتظامیہ کے مسلسل تعاون کے ساتھ، کل آدھی رات تک تمام پیشگی اقدامات کیے تاکہ جہلم اور دیگر آبی ذخائر کی موجودہ سیلابی حالت کی وجہ سے کسی بھی صورت حال سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہاکہ لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ وولر جھیل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں پانی کی سطح بڑھے گی۔ اضافہ بہت بتدریج ہوگا۔ مقامی لوگوںنے بھی کہا کہ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ اس طرح کے حالات سے بخوبی واقف ہیں، کیونکہ یہ بستیاں ولر جھیل کے اندر ہیں جب اسے سیلابی طاس دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاچونکہ اضافہ بتدریج ہوتا ہے، اس لیے لوگ بھی وقت پر اپنے سامان کو سنبھال کر اس کے مطابق کام کرتے ہیں۔اس کے باوجود انتظامیہ نے پہلے ہی کسی بھی مدد کے لیے مقامی نوڈل افسران کو نامزد کر دیا ہے۔دریں اثناءمعلوم ہواکہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں حکام نے جمعرات کی شام دیر گئے کلہاما گاو¿ں سے کم از کم 11 کنبوں کو نکالا کیونکہ وولر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہونے سے ان کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ایک اہلکار نے بتایا کہ وولر میں گیج جمعرات کورات کے11 بجے کے قریب1578.00 میٹر کے خطرے کے نشان کے مقابلے میں 1576.00 میٹر کو چھو گیا، جس سے حکام کو کمزور گھرانوں کو منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نادہ ہل منتقل کیا گیا ہے۔عشم کے مقام پر جہلم میں پانی کی سطح بڑھنے کے بعد حاجن کے علاقے میں بھی خوف پھیل گیا، جہاں دریا 14 فٹ سے زیادہ کو چھو چکا تھا۔قبل ازیں ہاکبارہ، وانگی پورہ، سادونارا اور حاجن کے رہائشیوں نے کمزور پشتوں کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، لیکن حکام نے یقین دلایا کہ صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے۔






