سرینگر ….05ستمبر…. سی این آئی ……… ہمارے تعلیمی نظام کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ہمارے قدرتی وسائل محدود ہیں اور نوجوانوں کو ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر کام کرنے کی ضرورت ہے کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق نئی اصلاحات، پالیسیوں اور اسکیموں نے پورے تعلیمی نظام کی نئی تعریف کی ہے اور کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کی تجویز کے مطابق جامع تعلیم اساتذہ اور طلباءکو علم کو تبدیل کرنے کیلئے استعمال کرنے کے یکساں مواقع فراہم کرے گی۔ سنہا نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) ہندوستان کو علمی معیشت میں عالمی رہنما کے طور پر پوزیشن دینے کیلئے تیار ہے۔ سی این آئی کے مطابق یوم اساتذہ کے موقعہ پر سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں محکمہ اسکولی ایجوکیشن کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر بھر کے بہترین اساتذہ کو ایوارڈز سے نوازا۔اس موقعہ پر اپنے خطاب میںیوم اساتذہ کے موقع پر اپنی مبارکباد پیش کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ طلباءکو شامل کرکے اور سیکھنے کے مناسب تجربے کے لیے انفرادی ترقی کو یقینی بنا کر معیاری تعلیم کے لیے آزادانہ سوچ، تخلیقی صلاحیت، جستجو، علم کی اجازت دیں۔لیفٹنٹ گورنر نے مزید کہا کہ تعلیمی نظام میں جدت، لچک، تخلیقی صلاحیت، قدر پر مبنی تعلیم، سائنسی مزاج کی نشوونما، مہارت کے سیٹ اور آزادانہ خیالات کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں تعلیم کے شعبے میں تبدیلی کا دور رہا ہے، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق نئی اصلاحات، پالیسیوں اور اسکیموں نے پورے تعلیمی نظام کی نئی تعریف کی ہے اور اسکولوں کو ایک مرکز بنا دیا ہے۔ کلیدی خطبہ کے دوران انہوں نے اہم وجوہات پر روشنی ڈالی کہ کیوں ہمارے نظام تعلیم کو پائیدار ترقی کے لیے تعلیم پر توجہ دینی چاہیے اور نوجوان نسل کے درمیان وجود کے باہمی ربط کی گہری سمجھ کو فروغ دینا چاہیے۔ منوج سنہا نے کہا ” اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن خوشحالی اور سماجی مساوات کی کلید ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ہمارے قدرتی وسائل محدود ہیں اور نوجوانوں کو ماحولیاتی نظام اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہے جس کے نتیجے میں جانوں کے ضیاع، انفراسٹرکچر کو نقصان اور معاشرے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں“۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلیمی اداروں کو ابتدائی انتباہی نظام کو بہتر بنانے پر کام کرنا چاہیے اور قدرتی آفات اور آب و ہوا کی لچک کے لیے فطرت پر مبنی حل کے لیے مقامی آبادی کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) ہندوستان کو علمی معیشت میں عالمی رہنما کے طور پر پوزیشن دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر بھی زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کو اپنے طلباءکے مستقبل کی تشکیل میں مدد کے لیے ایک ٹول کے طور پر اپنائیں۔






