سرینگر…یکم اکتوبر…. سی این آئی ….نئی ٹیکنالوجی کو جنگ میں بڑے پیمانے پر حیران کن عنصر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کی بات کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہم تحقیق اور ترقی کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو دفاعی شعبے کو فروغ دینے کیلئے اختراعی ماحولیاتی نظام کی ضرورت ہے ۔ سی این آئی کے مطابق محکمہ دفاع کے 278 ویں یوم تاسیس پر منعقدہ تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے ملک میں تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایک اختراعی ماحولیاتی نظام بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، جو بدلتے ہوئے جنگی حالات کے پیش نظر دفاعی شعبے کو بڑھا سکتا ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ”جدید جنگ زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہوتی جا رہی ہے، جو کہ ناقابل یقین ہے۔ ان دنوں، نئی ٹیکنالوجی کو جنگ میں بڑے پیمانے پر حیران کن عنصر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی تشویشناک صورتحال پیدا کرتا ہے۔ جدید جنگ میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی برسوں اور سالوں کی تحقیق اور ترقی پر مبنی ہے، اور اس لیے، ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے“۔ انہوں نے مزید کہا”اب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم ایک جدید ماحولیاتی نظام تیار کریں جو ہمارے دفاعی شعبے کو اپ گریڈ کرے۔ ہم سب کو اس محکمے میں کام کرنا چاہیے“۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا”ہمارے اردگرد چیزیں بدل رہی ہیں، ان کو دیکھتے ہوئے، سیکورٹی کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دفاعی بجٹ بھی سال بہ سال بڑھ رہا ہے“۔ دفاعی بجٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں اضافے کے ساتھ اسے دانشمندی سے استعمال کرنے کی ذمہ داری بھی دوگنی ہو جاتی ہے۔ محکمہ دفاع کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا”میں چاہتا ہوں کہ آج ترقی اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ ڈی اے ڈی کیلئے ایک چیلنج ہے کہ تحقیق اور ترقی کے ساتھ ساتھ فنڈ کا انتظام کیسے کیا جائے“۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی ترقی کو بوٹنگ کرنے کیلئے حکومت کے عزم پر بھی روشنی ڈالی اور کہا، ”ٹیکنالوجی کی ترقی کے فنڈ میں اضافہ اور ڈی آر ڈی او کے ساتھ مل کر، ہم ٹیکنالوجی کی ترقی کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں“۔اس سے قبل وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستانی فوج کیلئے وسیع تر انضمام اور معیاری نظام کی ضرورت پر زور دیا۔






