سری نگر…انفو ….چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں سکل ڈیولپمنٹ کے لئے جامع ایکشن پلان کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ کا مقصد ایک ایسی جامع حکمت عملی پر غور وخوض کرنا تھا جو جموںوکشمیر میں مستقبل کے لئے تیار اَفرادی قوت، ہنرمند پیشہ ور اَفراد، روزگار کے مواقع میں بہتری اور دیرپاذرائع معاش کی فراہمی کو یقینی بنا سکے۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعلیٰ تعلیم شانت منو، پرنسپل سیکرٹری فائنانس سنتوش دی ویدیا، سیکرٹری سکولی تعلیم رام نواس شرما،سیکرٹری سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کمار راجیورنجن، منیجنگ ڈائریکٹر سکل ڈیولپمنٹ مشن، سیکرٹری بی او ٹی اِی ، ڈائریکٹر سکل ڈیولپمنٹ، مختلف یونیورسٹیوں کے نمائندگان اور دیگر سینئراَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے زور دیا کہ اس منصوبے کے حقیقی اثرات تبھی ظاہر ہوں گے جب اس کی نچلی سطح پر مو¿ثر طریقے سے عمل آوری کی جائے۔اُنہوں نے ایجوکیشن اور سکل ڈیولپمنٹ محکموں کے درمیان مربوط ہم آہنگی کو اس منصوبے کی کامیابی کے لئے نہایت اہم قرار دیا۔چیف سیکرٹری نے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہنر مندی کی کوششوں کی کامیابی چار بنیادی ستونوں پر منحصر ہے جس میں اعلیٰ معیار کے ماسٹر ٹرینروں کی دستیابی، مضبوط نصاب کی تیاری، مناسب اِنفراسٹرکچراور مو¿ثر ہنر مندی ماڈلوں کا قیام شامل ہیں۔اُنہوں نے ریگولیٹری فریم ورک پر کام کرنے اور نجی شعبے کی دلچسپی اور فعال شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے سکل ماڈلوں کے قیام کی اہمیت پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر میں ہر فرد کو مستقبل کے لئے تیار ورک فورس اور ماہر پیشہ ور بنایا جا سکے۔اَتل ڈولو نے واضح کیا کہ ہنر مندی کی تربیت کا انتظام صرف چند اِداروں یا مطلوبہ مہارت سے محروم اَفراد کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ اُنہوں نے کہا،”اگر ماسٹر ٹرینرز موجود نہ ہوں تو بہترین فریم ورک یا ریگولیٹری ماڈل بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔“اُنہوںنے مزید کہا کہ ہنر مندی صرف سکل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی ذِمہ داری نہیں ہے۔اُنہوں نے زوردیاکہ یہ ایک مشترکہ کوشش ہے جس میں یونیورسٹیاں، سکول اور پولی تکنیک اِدارے اَپنی اَپنی صلاحیت کے مطابق رول اَدا کریں۔چیف سیکرٹری نے غیر حقیقی اہداف کے خلاف بھی خبردار کیا اور کہا کہ ناقابلِ عمل تعداد کے بجائے معیار پر توجہ دی جائے۔ اُنہوں نے کہا،”اگر ہم پانچ لاکھ اَفراد کو معیاری تربیت فراہم کر سکیں ، تو یہ بذاتِ خود ایک قابل ذِکر کامیابی ہوگی۔“میٹنگ میں آئی ٹی آئیز اور پولی تکنیکوں کو مضبوط بنانے، نجی ہنر مند اِداروں کے ریگولیشن کو یقینی بنانے اور مختلف سیاق و سباق کے مطابق ہنر مندی کے متعدد ماڈلوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے تجویز دی کہ بینک اِداروں اور کاروباری اَفراد کی مدد کے لئے” ہنرمندی کے قرضے“ فراہم کر سکتے ہیں تاکہ ہنر مندی کے ماحولیاتی نظام کو تقویت مل سکے۔اَتل ڈولو نے محکموں پر زور دیا کہ وہ کورس کی شناخت کا طریقہ¿ کار، ماسٹر ٹرینروں کے لئے قابلیت کے معیار، نصاب کی تیاری و جائزے ، ماڈلوں اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات جیسے لیبارٹریوں و تربیتی سہولیات کی وضاحت کرتے ہوئے منصوبے کو مزید بہتر بنائیں۔اُنہوں نے دیرپا معاش کو یقینی بنانے کے لئے ہنر مندی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، آئی ٹی آئیز اور پولی تکنیک اِداروں کو ہم آہنگ ہو کر کام کرنا ہوگا اور نجی اِداروں کی بھی فعال شرکت یقینی بنائی جائے۔چیف سیکرٹری نے مختلف سکیموں کے تحت محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اَفسران پر زور دیا کہ وہ روایتی تربیت سے آگے بڑھیں اور ہنر سازی کی کوششوں کو ٹول کِٹس کی تقسیم اور مالی معاونت تک رسائی کے ساتھ مربوط کریں۔ اُنہوں نے کہا،”سکل ڈیولپمنٹ کا مقصد فائدہ اُٹھانے والوں کو بااِختیار بنانا اور ان کے لئے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔“اُنہوں نے جموں و کشمیر میں ایک ہنر مند اور بااِختیار اَفرادی قوت پید ا کرنے پر زور دیتے ہوئے اعادہ کیا کہ بنیادی مقصد ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں سرکاری اور نجی ادارے مل کردیرپا اور جامع ہنر مندی کو فروغ دیں۔میٹنگ میں اَفسران نے اَپنی قیمتی تجاویز پیش کیں اور اَپنے اپنے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے چیئر کو جانکاری دی۔






