سری نگر….انفو…..لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم میں ’ جموںوکشمیر یونین ٹیریٹری میں اَمن ، لوگ اور اِمکانات ‘پر کلیدی خطاب کیا۔ یہ سمپوزیم وشوگرام ایک غیر سرکاری ادارے نے منعقد کیا ہے جو پورے ہندوستان میںمیں تعلیم، ہمدردی، فن اور خدمت کو فروغ دینے کے لئے وقف ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میںاُبھرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ایک نئے ویژن پر روشنی ڈالی جو پُرامن، خوف سے پاک، خوشحال، متحد ہو اور جہاں ہر شہری بااختیار ہو اورہندوستان کی تیز رفتار ترقی کے اثرات محسوس کر رہا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جموں و کشمیر کو موجودہ مقام تک پہنچانے کے لئے بے شمار قربانیاں دی گئی ہیں۔اُنہوں نے کہا،”آج جموں و کشمیر میں نظر آنے والا امن ہر ایک کو باعزت زِندگی کے مساوی مواقع فراہم کر رہا ہے اور سب کو باوقار زِندگی گزارنے کا یکساں موقعہ مل رہا ہے۔ امن کے اثرات لوگوں کی بہتر کل کے لئے کوششیں اور ہر ایک کے لئے بے پناہ امکانات واضح نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم نے لوگوں کو اولیت، سماجی انصاف اور مساوات کے اصولوں پر عمل کیا ہے جس نے لوگوں کی زِندگی اور ملک کے اِس تاج کے جوہر کو بھی نکھار دِیا ہے۔“منوج سِنہا نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے مضبوط عزم کو بھی اُجاگر کیا اور اَمن، اِنصاف اور مساوات کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے کہا،”ہم سماجی و اِقتصادی ترقی کو مضبوط کرنے اور اَپنے نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے پُرعزم ہیں۔“اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں بہادر فورسز اور جموں وکشمیرپولیس نے ایک ایسا جموں و کشمیربنایا ہے جہاں گولیوں اور گرینیڈوں کی آواز کی جگہ راگ اور نئے جوش و جذبے نے لے لی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے کہا،”ہم نے ایک ایسا جموںوکشمیر بنایا ہے جہاں سکولوں کی دیواریں پتھراو¿ کے شور کے بجائے بچوں کی ہنسی، اختراعات اور تعلیم کی آواز سے گونج رہی ہیں۔ ہم نے وہ جموںوکشمیر بنایا ہے جہاں کبھی خاموشی کا گہوارہ رہنے والے پلوامہ، شوپیاں اور کولگام آج نوجوانوں کے ثقافتی اور ادبی مراکز بن چکے ہیں۔ لالچوک اور پولو ویو جیسے بازار اب ویران نہیں بلکہ نئی زندگی اور توانائی سے روشن ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ اَمن کی اصل روح ہیں۔ انہوں نے سماج کے تمام طبقات پر زور دیا کہ امن کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف ایک متحد قوت بن کر سامنے آئیں اور منشیات اور نوجوانوں کی انتہاپسندی کے خطرات کا مقابلہ کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے ہر ایک کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔اِس موقعہ پر چیئرپرسن جموںوکشمیر وقف بورڈ ڈاکٹر درخشاں اندرابی ، سوامی جتیندرآنند سرسوتی جی،وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی،قومی صدر وشوگرام پروفیسر ڈاکٹر گیتا سنگھ، تعلیمی اداروں کے سربراہان، سول و پولیس اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، وشوگرام کے اراکین، دانشور، ماہرین تعلیم اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے۔






