جموں….انفو….چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لت کا مقابلہ کرنے کی سمت ایک اہم قدم کے طور پر نیتی آیوگ کے رُکن ڈاکٹر وی کے پال کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت کی۔ اِس ملاقات کا مقصد پورے جموںوکشمیر یوٹی میں نشہ آور ادویات کے اِستعمال کے خلاف ایک جامع، مو¿ثر اوردیرپا حکمت عملی تیار کرنے کے لئے ماہرین کی رہنمائی حاصل کرنا تھا۔اس مشاورتی میٹنگ میں ایمز( اے آئی آئی ایم ایس) نئی دہلی اور پی جی آئی ایم اِی آر چندی گڑھ کے معروف قومی ماہرین کے علاوہ جموں و کشمیر کے سینئر اَفسران اور صحت کے منتظمین نے بھی شرکت کی۔میٹنگ کی صدارت سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے کی جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن، ڈائریکٹر سکمز، سرکاری میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں اور جی ایم سی سری نگر و جی ایم سی جموں کے شعبہ¿ نفسیات کے سربراہان نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں منشیات کے مسئلے کی سنگینی اور پھیلاو¿ پر روشنی ڈالی اور متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے جاری اقدامات، ادارہ جاتی ڈھانچے اور مربوط کوششوں کا ذکر کیا۔اُنہوں نے اِنتظامیہ کی اَپنائی گئی کثیر الجہتی حکمت عملی کی وضاحت کی جو پانچ بنیادی ستونوں’ سخت قانون عملانے ، معلوماتی و تعلیمی مہمات (آئی اِی سی)، مشاورت، علاج اور بحالی ‘پر مبنی ہے جس کا مقصد متاثرین کی فوری مدد اور طویل المدتی صحتیابی یقینی بنانا ہے۔اَتل ڈولو نے کمیونٹی مرکوزیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر پال سے نچلی سطح تک مشیروں کے نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ماہرانہ معلومات طلب کیں جس میں تعلیمی اِدارے، پرائمری ہیلتھ سینٹروں(پی ایچ سیز) اور مقامی کمیونٹیاں شامل ہیں۔اُنہوں نے ایک مضبوط بحالی کے نظام اور مو¿ثر نگرانی کے میکانزم کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دوبارہ نشے کی طرف لوٹنے سے بچا جا سکے اور صحتیاب افراد باعزت اور نتیجہ خیز زندگی گزار سکیں۔ڈاکٹر وِی کے پال نے جموں و کشمیر اِنتظامیہ کی فعال کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف علاج سے آگے بڑھ کر جامع بحالی اور کمیونٹی کی شمولیت پر توجہ دینا ایک مثبت اور انقلابی قدم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مشاورت اور بحالی پر مرکوزیت رکھنے والا یہ ماڈل حکمت عملی میں مزید توانائی اور دیرپائی لاتا ہے۔ڈاکٹر پال نے ہماچل پردیش کے ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح قومی ماہرین کی مدد سے ایک منظم علاج کے نیٹ ورک کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ اِس ماڈل کا تفصیلی مطالعہ کرکے اسے جموں و کشمیر کی ضروریات اور سماجی و ثقافتی تناظر کے مطابق ڈھالا جائے۔اُنہوں نے نیتی آیوگ کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے بتایا کہ ماہرین کی ایک ٹیم یو ٹی اِنتظامیہ کی جامع ایکشن پلان کی تیاری میں مدد کرے گی۔ اُنہوں نے مجوزہ حکمت عملی کے بنیادی نکات کے طور پر آئی اِی سی سرگرمیوں، مریضوں کی بہتر سہولیات، منظم علاجی پروٹوکول اور صحتیاب افراد کی منظم بحالی کی نشاندہی کی۔ایمز اور پی جی آئی ایم ای آر کے ماہرین نے علاج کے کلینیکل طریقہ¿ کار، مشاورتی تکنیکوں اور نشہ کی بیماری کے انتظام میں بہترین طریقوں پر بھی مفید آرا ¿ کا اشترا ک کیا۔اِس سے قبل سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے موجودہ نظام، پالیسیوں، ڈھانچے اور انسانی وسائل کی صلاحیت کا تفصیلی جائزہ پیش کیاجو یوٹی خطے میں منشیات کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے قائم ہے۔یہ مشاورتی میٹنگ جموں و کشمیر کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے اور اِنتظامیہ کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عوام کی صحت کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے لئے پُرعزم ہے۔






