سرینگرانفو/لیفٹنٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے ڈاکٹر راہی معصوم رضا پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار میں کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ ہندوستان اور بیرون ملک سے آئے ہوئے معروف ادبی شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا بلا شبہ اپنے زمانے کے عظیم ترین ادیبوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے ہندوستان کی ادبی تاریخ میں ایک مقدس نام کمایا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ” ڈاکٹر راہی معصوم رضا ملک کی روحانی اور ثقافتی روایات میں گہرے طور پر جڑے ہوئے تھے اور ہمیشہ مشترکہ انسانیت پر یقین رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ باہمی رابطے ، شمولیت اور مختلف ادیان کے درمیان پرامن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے تھے ۔ “ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی ٹھوس اور غیر ٹھوس میراث انمول ہے اور نوجوان نسلوں کیلئے روشنی کا مینار ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ” مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی بھر پور میراث ہمارے معاشرے کو ترقی اور خوشحالی کی طرف رہنمائی کرے گی ، قیمتی خیالات ، مثالیں فراہم کرے گی اور مشترکہ شناخت اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے گی ۔ “ لفٹینٹ گورنر نے معاشرے اور قوم کے سامنے موجود متعدد اہم کاموں کو اجاگر کیا اور مضبوط قومی شناخت اور ہماری انمول وراثت کی حکمت کی بحالی کا مطالبہ کیا تا کہ ہر طرفہ ترقی کو تیز کیا جا سکے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ” ہماری ثقافتی وراثت اجتماعی شناخت کو فروغ دے سکتی ہے ، متنوع گروہوں میں لچک اور یکجہتی پیدا کر سکتی ہے تا کہ معاشی ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے ۔ ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہئیے تا کہ خود اعتمادی حاصل ہو اور تاریخی سبق ، حکمت ، مثالیں ہمیں ترقی اور اختراع کے مستقبل کے مواقع کی طرف رہنمائی کریں ۔ “ انہوں نے کہا کہ جامع ترقی کیلئے ہمیں روایت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملانا چاہئیے اور ترقیاتی سفر میں جدید پیش رفت پر توجہ دینی چاہئیے تا کہ سب کو برابر مواقع یقینی بنائے جا سکیں ۔ انہوں نے مزید کہا ” ہمارا واحد مقصد امن اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے تا کہ وکست بھارت کا ہدف حاصل کیا جا سکے ۔ “ وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان ، وائس چانسلر اترا کھنڈ اوپن یونیورسٹی پروفیسر نوین چندر لوہانی ، فلم گیت نگار مسٹر سمیر انجان ، پرنسپل سیکرٹری کلچر ، ڈائریکٹر آئیڈیا کمیونیکیشنز اور سیمینار کے کنوینئر ، ڈین ، سٹوڈنٹ ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کشمیر یونیورسٹی ، سینئر افسران ، ممتاز ادبی شخصیات اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے کشمیر یونیورسٹی میں افتتاحی سیشن میں شرکت کی ۔






