سرینگر04۔۔۔۔ اپریل۔۔۔۔۔۔۔۔ وی او آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جموئی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، مودی نے پاکستان کا نام لے کر ذکر کرنے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے تحت، “ہندوستان نے مگدھ سلطنت کی قدیم شان کو زندہ کرتے ہوئے جوابی وار کرنا شروع کر دیا ہے۔پی ایم نے عام آدمی پارٹی پر بھی بالواسطہ طنز کیا، جس نے دہلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہمارے ملک کی سالمیت کو چلینج کرنے والی قوتوں کو ہم نے دو ٹوک جواب دیا ہے جس کے بعد اب وہ بھارت کے خلاف کوئی سازش کرنے کی جرات نہیں کرسکتے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموئی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، مودی نے پاکستان کا نام لے کر ذکر کرنے سے گریز کیا، لیکن کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے تحت، “ہندوستان نے مگدھ سلطنت کی قدیم شان کو زندہ کرتے ہوئے جوابی وار کرنا شروع کر دیا ہے۔پی ایم نے عام آدمی پارٹی پر بھی بالواسطہ طنز کیا، جس نے دہلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام لوگ جو ایک دوسرے پر بدعنوانی کا الزام لگاتے تھے اب مودی کو گالی دینے کے لیے اکٹھے ہو گئے ہیں۔مودی نے دعویٰ کیا کہ جب کانگریس اقتدار میں تھی، ”گندم کی سپلائی کے لیے جدوجہد کرنے والے چھوٹے ممالک کے دہشت گرد اپنی مرضی سے حملہ کر سکتے ہیں“۔انہوں نے “نوکریوں کے لیے زمین” کا ذکر کیا جس میں آر جے ڈی صدر لالو پرساد کا نام ایک ملزم کے طور پر لیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمارے اتحادی نتیش بابو (بہار کے وزیر اعلی) بھی ریلوے کے وزیر تھے۔ ان کا کتنا بے داغ ریکارڈ تھا۔مودی نے لوک سبھا انتخابات کے اعلان کے بعد بہار میں اپنے پہلے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آر جے ڈی-کانگریس اتحاد پر ”ایودھیا میں رام مندر پر طعنہ زنی“ اور ”ایک قبائلی خاتون (دروپادی مرمو) ملک کا صدرکے انتخاب کی مخالفت کرنے کا الزام بھی لگایا۔ بھاری ٹرن آو¿ٹ پر بظاہر خوش، انہوں نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ بہار کے لوگوں نے این ڈی اے کو ریاست میں تمام 40 سیٹیں جیتنے میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور ملک میں 400 سے زیادہ کا ہدف حاصل کیا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پارٹی نے ملک کی سالمیت کو خطرہ پہنچایا ہے اور ملکی مفادات کے خلاف اس پارٹی نے گزشتہ 75سالوں میں جو کام کیا ہے اس سے ملک کا ہر شہری اس پارٹی سے ناراض ہے ۔ انہوںنے کاکہ کانگریس لاپرواہ پارٹی ہے جس نے کبھی بھی قومی مفادات اور ملکی سالمیت کو ترجیح نہیں دی ۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کانگریس پر 1974 میں کاچاتھیو جزیرہ سری لنکا کو دینے کا الزام لگایا۔ پی ایم مودی نے یہ الزام تامل ناڈو کے بی جے پی سربراہ کے اناملائی کی جانب سے حق اطلاعات (آر ٹی آئی) درخواست کے ذریعے کیے گئے حالیہ انکشافات کے بعد لگایا ہے۔ کچاتھیو جزیرہ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی کانگریس زیر قیادت حکومت کا ایک متنازعہ فیصلہ ہے۔






