بانڈی پورہ….انفو …وزیر برائے جل شکتی، جنگلات وماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانانے ضلع بانڈی پورہ کے چترنار میں کشمیر فارسٹ ٹریننگ سکول (کے ایف ٹی ایس) کا دورہ کرکے ادارے کے کام کاج کا جائزہ لیا جا سکے اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کا معائینہ کیا۔وزیر موصوف نے دورے کے دوران موجودہ تربیتی ماڈیولز، عملے کی تعداد، ہوسٹل کی سہولیات اور سکول کے مجموعی بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے جنگلات کے عملے کو معیاری تربیت فراہم کرنے کے لئے سکول کی جدید کاری اور استعداد میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر جاوید رانانے یقین دلایا کہ سکول کے بنیادی ڈھانچے کو جلد اَپ گریڈ کیا جائے گا جس کے لئے ایک جامع تجویز پہلے ہی مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی (ایم او اِی ایف اینڈ سی سی) کو پیش کی جا چکی ہے۔اُنہوں نے یقین دہانی کی کہ اس معاملے کی جلد منظوری اور فنڈنگ کے لئے بھرپور پیروی کی جائے گی۔بعد میں وزیر موصوف نے علاقے سے آئے عوامی وفود سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں پانی کی فراہمی (جل شکتی)، قبائلی فلاح و بہبود اور جنگلات سے متعلق مختلف مسائل اور ترقیاتی امور وزیر کو گوش گزار کئے۔مقامی لوگوں کی جانب سے ایک اہم مسئلہ بندروں کی بڑھتی ہوئی آفت کا اٹھایا گیاجو نہ صرف زراعت بلکہ مقامی لوگوں کی حفاظت کے لئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔وزیر جاوید رانا نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو فوری ہدایات جاری کیں کہ بندروں کی آفت پر قابو پانے اور مذکورہ شعبوں میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لئے ایک ایکشن پلان تیار کیا جائے۔اُنہوںنے اس عزم کا اعادہ کیاکہ حکومت دیرپا ترقی اور عوامی فلاح پر مبنی حکمرانی کو بالخصوص دور دراز اور ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے ۔وزیرجاوید احمد رانا کے ہمراہ رُکن قانون ساز اسمبلی گریزنذیر احمد گریزی بھی تھے جنہوں نے دورے کے دوران مقامی شراکت داروں اور عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کی۔






