سری نگر….۶، اکتوبر….جے کے این ایس…. الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کی4 نشستوں کے لئے نامزدگی کا عمل شروع کرتے ہوئے 3 الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق پہلے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 10 فروری2021 کو میر محمد فیاض کے ریٹائرمنٹ کی وجہ سے ان کی میعاد ختم ہونے پر کونسل آف اسٹیٹس میں خالی اسامی کو پر کرنے کے لیے الیکشن کرایا جائے گا۔ریٹرننگ آفیسر نے مطلع کیا ہے کہ کاغذات نامزدگی امیدواروں یا ان کے تجویز کنندگان ریٹرننگ آفیسر (سیکرٹری، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی) یا اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر (ایڈیشنل سیکرٹری، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی) کو دوپہر 11 بجے سے 3 بجے کے درمیان کسی بھی کام کے دن قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ، سری نگر میں واقع اپنے دفاتر میں جمع کر سکتے ہیں۔ نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 اکتوبر 2025 بروز پیر ہے۔کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 14 اکتوبر 2025 بروز منگل صبح11 بجے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ، سری نگر میں ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں ہوگی۔امیدوار اپنا کاغذات نامزدگی جمعرات 16 اکتوبر 2025کو سہ پہر 3 بجے سے پہلے واپس لے سکتے ہیں۔ یا تو ذاتی طور پر یا مجاز تجویز کنندگان یا انتخابی ایجنٹوں کے ذریعے۔ الیکشن لڑنے کی صورت میں، پولنگ 24 اکتوبر 2025 بروز جمعہ صبح9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی۔دوسرا نوٹیفکیشن راجیہ سبھا کی سیٹ سے متعلق ہے جسے شمشیر سنگھ نے10 فروری 2021 کو خالی کیا تھا۔ کاغذات نامزدگی داخل کرنے، جانچ پڑتال اور واپس لینے کے ساتھ ساتھ پولنگ کا طریقہ کار وہی ہے جیسا کہ پہلے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا۔ اس الیکشن کے ریٹرننگ آفیسر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سکریٹری منوج کمار پنڈت ہیں۔تیسرا نوٹیفکیشن غلام نبی آزاد اور نذیر احمد لاوے کی 15 فروری 2021 کو ان کی مدت پوری ہونے پر ریٹائرمنٹ سے پیدا ہونے والی خالی آسامیوں کو پ±ر کرنے کے لیے ریاستوں کی کونسل میں دو اراکین کے انتخاب سے متعلق ہے۔ کاغذات نامزدگی انہی دفاتر میں صبح11 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک پہنچائے جاسکتے ہیں، داخل کرنے کی آخری تاریخ 13 اکتوبر 2025 ہے۔جانچ پڑتال 14 اکتوبر 2025 کو صبح 11 بجے ہوگی، اور امیدواری واپس لینے کا عمل 16 اکتوبر کو سہ پہر3بجے سے پہلے مکمل کرنا ہوگا۔ ۔ پولنگ، اگر ضرورت ہو تو24 اکتوبر 2025 کو صبح 9بجے سے شام4 بجے تک ہوگی۔الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تمام فارمز اور جمع کرانے کے طریقہ کار کو مقررہ ٹائم لائنز پر عمل کرنا چاہیے، اور امیدوار یا ان کے مجاز ایجنٹ مقررہ شیڈول کے اندر کاغذات کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔نیشنل کانفرنس، کانگریس اور بی جے پی نے اپنے امیدواروں کے انتخاب کے لیے مشاورت شروع کر دی ہے۔نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر شوکت احمد میر نے کہا کہ پارٹی نے تاحال کسی امیدوار (کی نامزدگی) پر غور نہیں کیا۔ تاہم، پارٹی کے اندر کئی لوگ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو راجیہ سبھا میں دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ’ان کی آواز پارلیمان میں سنی جانی چاہیے‘۔رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت 3 نشستوں پر مقابلہ کرنے پر غور کر رہی ہے، مگر شوکت احمد میر نے ان خبروں کو قیاس آرائی قرار دیا۔نیشنل کانفرنسکے پاس اپنی41 نشستوں کے علاوہ 6 کانگریس، 5 آزاد اور سی پی آئی (ایم) کے ایک رکن یوسف تاریگامی کی حمایت ہے، جس سے اسے 53 ووٹ حاصل ہیں۔اس کے برعکس بی جے پی، جس کے پاس صرف28 اراکین ہیں، نے سبھی 4 نشستوں پر امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی ترجمان سنیل سیٹھی کے مطابق امیدواروں کے نام نئی دہلی میں پارٹی ہائی کمان کی منظوری کے بعد منظر عام پر لائے جائیں گے۔حکمران اتحاد میں شامل کانگریس، جس کے پاس صرف 6ممبران اسمبلی ، نے ایک نشست پر دعویٰ کیا ہے۔ ریاستی صدر طارق حمید قرہ کے مطابق دونوں اتحادی جماعتوں (این سی ،کانگریس) کے درمیان باضابطہ مذاکرات ابھی باقی ہیں لیکن مرکزی قیادت کی سطح پر’غیر رسمی بات چیت‘ جاری ہے۔






