دہشت گرد سرگرموں میں ملوث 55سرکاری ملازمین برطرف /منوج سنہا
سرینگر06۔۔۔۔نومبر۔۔ایس این این۔۔۔۔۔۔۔۔گزشتہ دو سالوں کے دوران ملی ٹنسی سرگرموں میں ملوث 55سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس قسم کے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جنہوں نے ملی ٹنسی کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق گزشتہ دنوں دہلی میں ایک ثقافتی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ملی ٹنسی کو فروغ دینے پر 55 سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برخاست کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد انتظامیہ نے سال 2021 میں ایسے ملازمین کی شناخت کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی جو ملی ٹنسی سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملی ٹنسی کو فروغ دینے والے تقریباً 55 سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے اور کہا کہ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس قسم کے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جنہوں نے ملی ٹنسی کو فروغ دینے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی حکومت ایسے لوگوں کو پیسے دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ کام آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گا۔خیال رہے کہ حکومت نے 21 اپریل 2021 میں ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی تھی، جو مبینہ طور پر کسی بھی ملازمین کے مقدمات کی نشاندہی اور جانچ پڑتال کرتی ہے جو ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔اگست میں حکام نے جموں کشمیر بینک کے چیف منیجر کی خدمات کو برخاست کر دیا جبکہ اسی طرح سے جولائی میں انتظامیہ نے کشمیر یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر سمیت تین سرکاری ملازمین کی خدمات آئین کے دفعہ 311 کے تحت مبینہ طور پر ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام میں ختم کر دی تھیں۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں پتھراو¿ تاریخ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا ”اب، پاکستان یا اس کے آگے چلنے والوں کی طرف سے بند کی کال نہیں ہے۔ اسکول، کالج، تجارت اور کاروبار جموں و کشمیر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ عوام اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں اور کسی کی کوئی ڈکٹیشن نہیں ہے“۔






