چیف سیکرٹری نے کاموں کا ورچوئل دورہ کیا ، لوگوں سے رائے طلب کی
جموںانفو/چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے مرکزی فلیگ شپ پروگرام جل جیون مشن ( جے جے ایم ) کے تحت پورے جموں و کشمیر یو ٹی میں شروع کئے گئے کاموں کا ورچوئل دورہ کیا ۔ اُنہوں نے مشن میں اَب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے عوام اور محکمہ کے اَفسران سے بات چیت کی ۔ ورچوئل ٹورایک میٹنگ کے ذریعے منعقد ہوا جس میں جل شکتی محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری ، مشن ڈائریکٹر جے جے ایم ، ڈپٹی کمشنرز ، سپیشل سیکرٹری جے ایس ڈی ، ڈائریکٹر فائنانس جے ایس ڈی ، چیف اِنجینئروں ، سپراِنٹنڈنگ انجینئروں، محکمہ جل شکتی کے ایگزیکٹو انجینئر اور دیگر افسران نے شرکت کی ۔ ابتداً،چیف سیکرٹری نے افسران سے مشن کی پیش رفت کے بارے میں پوچھا اور ان سے کہا کہ وہ بغیر کسی ناکامی کے ڈیڈ لائن کو پورا کریں ۔ اُنہوں نے انہیں ہدایت دی کہ وہ ہر سکیم کے تمام اجزاءکو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانے کیلئے ٹینڈر کریں ۔ اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ بقایا کاموں کی ٹینڈرنگ میں تیزی لائیں تا کہ اِس برس مارچ سے قبل کاموں کو شروع کیا جاسکے۔اُنہوں نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ مقامی لوگوں کو شامل کریں تا کہ یہ سکیم مستقبل میں بھی کامیابی سے چل سکے ۔ اُنہوں نے مشن کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ اس میگا مشن کے مو¿ثر عمل آوری کیلئے نگرانی کے طریقہ¿ کار کو بڑھائیں ۔ اُنہوں نے کاموں کے تیسرے فریق کے جائزے پر بھی زور دیا اور اس کے علاوہ عوامی نمائندوں اور پانی کمیٹیوں کیلئے پیش رفت کی نگرانی میں زیادہ کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اُنہوں نے ترجیحی شعبوں کے بہتر کنٹرول اور تفہیم کیلئے کریٹیکل پاتھ میتھڈ ( سی پی ایم ) اور ریسورس مینجمنٹ سسٹم جیسی تکنیکوں کے اِستعمال پر زور دیا اور ہر کام کو وقت پر مکمل کرنے کیلئے آگے بڑھنے کا طریقہ معلوم کیا ۔ اُنہوں نے افسران کو فیلڈ ورکرز کی استعداد کار میں اضافہ کرنے کی ہدایت دی تا کہ 11,000 کروڑ روپے کے مشن کو مو¿ثر طریقے سے نافذ کیا جا سکے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس طرح کے مشن محکموں کو اپنے ملازمین کی اِستعداد کار میں اِضافہ کرنے اور اَفرادی قوت کی ضروریات کو پورا کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتے ہیں ۔ ڈاکٹرارون کمار مہتا نے جے جے ایم کے تحت پانی کی جانچ کی رفتار اور کہیں بھی پانی کے خراب معیار کی صورت میں اُٹھائے گئے تدارک کے بارے میں بھی دریافت کیا ۔ اُنہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ لوگوں اور پی آر آئی کے نمائندوں کو جانچ کے عمل میں شامل کریں اور نلکے کے پانی کے معیار کی جانچ کیلئے پانی سمیتیوں کو ٹیسٹنگ کٹس دیں ۔ پرنسپل سیکرٹری شالین کابرا نے چیف سیکرٹری کو مطلع کیا کہ یہ مشن 2019 ءسے نافذ العمل ہے اور اَب تک اس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے ۔ اُنہوں نے میٹنگ کو بتایا کہ اس مشن کے تحت تمام دیہی اداروں جیسے سکولوں ، آنگن واڑی مراکز اور صحت کے اِداروں کو پائپ سے پانی فراہم کیا گیا ہے ۔ اُنہوں نے اِنکشاف کیا کہ اس مشن کے تحت ہر بقایا دیہی گھرانے کو اس برس جون تک نلکے کے پانی کا کنکشن فراہم کیا جائے گا کیوں کہ اس وقت تک زیادہ تر اہداف مکمل ہو جائیں گے ۔ میٹنگ میں جانکاری دی گئی کہ کاموں کی شفافیت اور نگرانی کو بڑھانے کیلئے این جی اوز کو امپلی منٹیشن سپورٹ ایجنسیز ( آئی ایس اے ) کے طور پر پینل میں شامل کیا گیا ہے ۔ یہ آئی ایس اے ہر گاو¿ں میں کام کرنے جا رہے ہیں اور گرام پنچایتوںاورپانی سمیتیوںکی صلاحیت بڑھانے میں مدد کریں گے اور دیگر امدادی سرگرمیاں بھی انجام دیں گے ۔






