مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ’منشیات کی اسمگلنگ اور قومی سلامتی‘ پر میٹنگ کی صدارت
سرینگر، 08 اکتوبر، / مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام کے گوہاٹی میں ’منشیات کی اسمگلنگ اور قومی سلامتی‘ پر تمام شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، چیف سکریٹریوں اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرلز کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کی۔آزادی کا امرت مہوتسو میں، وزارت داخلہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’منشیات سے پاک ہندوستان‘ کے وژن کو پورا کرنے کا پختہ عزم کیا ہے۔شمال مشرقی علاقے میں منشیات کے خلاف خصوصی مہم کے تحت تقریباً 40 ہزار کلو گرام منشیات تلف کر دی گئیں۔آزادی کا امرت مہوتسو کے تحت 75 ہزار کلو گرام منشیات کو تلف کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اب تک 1.5 لاکھ کلو گرام منشیات کو تلف کیا جا چکا ہے، جو مقررہ ہدف سے دوگنا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے ’ڈرٹی منی‘ اور ’منظم مافیا‘ کی جانب سے ملکی معیشت اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی ہے۔منشیات کا استعمال کسی بھی معاشرے کے لیے مہلک ہوتا ہے کیونکہ دہشت گردی کے واقعے کا نقصان محدود ہوتا ہے لیکن معاشرے میں منشیات کا پھیلاو¿ نسلوں کو برباد کر دیتا ہے۔منشیات ہمارے معاشرے اور ملک کی نوجوان قوت کو کھوکھلا کرنے کے لیے دیمک کی طرح کام کرتی ہیں۔منشیات کی اسمگلنگ بغیر سرحدکے جرم ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے تمام منشیات کے قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں اور شمال مشرقی ریاستوں کے سرحدی اضلاع کے درمیان بہتر ہم آہنگی ضروری ہے۔ہمیں منشیات کے استعمال کرنے والوں اور کسی بھی قبضے میں ملوث ڈسٹری بیوٹرز جیسے ’چہروں‘ کو پکڑنے سے آگے بڑھنا ہے اور ان ماسٹر مائنڈز کو پکڑنے کے لئے ان کے پیچھے جانا ہے جو سرحد کے باہر سے منشیات بھارت بھیجتے ہیں۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی ہدایت پر، وزارت داخلہ نے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، منشیات سے متعلق تمام ایجنسیوں کو بااختیار بنانے اور تال میل اور منشیات کے خلاف کریک ڈاو¿ن کرنے کے لیے ایک جامع بیداری مہم چلانے کا سہ رخی فارمولہ اپنایا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر ریاست میں ایک فارنسک سائنس لیبارٹری ہونی چاہئے اور حکومت ہند اس کوشش میں 50 فیصد مالی امداد دینے کے لئے تیار ہے۔این سی بی کا علاقائی دفتر گوہاٹی میں قائم کیا گیا، نئے علاقائی دفاتر تریپورہ کے اگرتلہ اور اروناچل پردیش کے پاسیگھاٹ/ لوئر سیانگ میں قائم کیے جا رہے ہیں، سکم سے ملحقہ علاقوں کی بہتر کوریج کے لیے نیو جلپائی گوری میں ایک زونل آفس بھی شروع کیا گیا ہے۔منشیات کی سمگلنگ کا مسئلہ مرکز یا ریاست کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قومی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کی کوششیں بھی قومی اور متحد ہونی چاہئیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو این سی او آر ڈی میٹنگوں کی صدارت کرنی چاہئے اور انہیں ضلعی سطح تک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔مرکزی وزیر داخلہ نے افیون کی کاشت کرنے والے علاقوں کی شناخت اور کنٹرول کے لیے ڈرون، مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ میپنگ کے استعمال کی حمایت کی۔منشیات کے معاملات کی اس کے منبع سے لے کر منزل تک مکمل چھان بین کی جانی چاہیے تاکہ اس کے پورے نیٹ ورک پر کریک ڈاو¿ن کیا جا سکے۔2006-2013 کے درمیان کل 1257 مقدمات درج ہوئے جو 2014-2022 کے درمیان 152 فیصد اضافے سے 3172 ہو گئے، اسی عرصے کے دوران گرفتاریوں کی کل تعداد 1362 سے 260 فیصد بڑھ کر 4888 ہو گئی۔2006-2013 کے دوران 1.52 لاکھ کلو گرام منشیات پکڑی گئی جو 2014-2022 کے درمیان دگنی ہو کر 3.30 لاکھ کلوگرام ہو گئی، 2006-2013 کے دوران 768 کروڑ روپے کی منشیات پکڑی گئیں، جو 2014-2022 کے درمیان 25 گنا بڑھ کر 20,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔






