کشمیر کی صورتحال اب مکمل طور پر بدل چکی / منوج سنہا
سرینگر /09دسمبر / سی این آئی / ملی ٹنسی کا جلد ہی مکمل طور پر صفایا کرکے جموں کشمیر کو ملک کے تاریخی مقام پر پہنچایا جائے گا کا اعلان کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال اب مکمل طور پر بدل چکی ہے اور لوگ اب تشدد کیخلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہیں ۔ منشیات کی اسمگلنگ کو ملی ٹنسی کی شکل میں ایک سازش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک مخالف سرگرمیوں کو قطعی طو ر پر برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ”ہمارے سامنے دو بڑے مسائل ہیں پہلا جموں و کشمیر میں باقی ماندہ ملی ٹنسی کو ختم کرنا ہے اور دوسرا جموں و کشمیر کو ملک میں اپنے تاریخی مقام کی بحالی کیلئے دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی مخالفت کی جانی چاہیے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کشمیر میں اب صورتحال بدل گئی ہے، سنہا نے کہا کہ لوگ تشدد کے خلاف سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور وادی میں ہزاروں لوگوں نے ترنگا لے کر مارچ کیا اور ‘بھارت ماتا کی جئے’ کے نعرے لگائے۔انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی میں ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی جب علیحدگی پسندی اور عسکریت پسندی نے جنم لیا اور لوگوں کے درمیان امتیاز کرنے والے قوانین نہ صرف بنائے گئے بلکہ انہیں جاری رہنے دیا گیا۔ ملی ٹنسی کا ماحولیاتی نظام نہ صرف بنایا گیا بلکہ عام آدمی کو تکالیف کا باعث بناتاہم انہوں نے مزید کہا کہ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ وزیر اعظم (نریندر مودی) کی کوششوں سے جموں و کشمیر میں ایک مساوی معاشرہ تشکیل دیا گیا ہے۔”اب نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں پتھر نہیں۔ وہ دن گئے جب کشمیر میں ہرتال کی کالیں سرحد پار سے دی جاتی تھیں،“ کب تک معصوموں کے خون پر سیاست ہوتی رہے گی؟ سنہا نے پوچھا اور کہا کہ ان کی حکومت کے پاس واضح ‘منتر’ ہے ‘بیگناہوں کو چیدو مات اور گنہگاروں کو چھوڑو’ (معصوموں کو مت چھیڑو اور مجرموں کو نہ بخشو)۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بے گناہ شکار ہوتا ہے تو حکومت کارروائی کرتی ہے۔منشیات کی اسمگلنگ کو ”سازش اور عسکریت پسندی کی شکل“قرار دیتے ہوئے، سنہا نے کہا کہ کچھ طاقتیں نسلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کوشش کو ناکام بنانا ہوگا۔






