جموں … انفو …وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو آگاہ کیا کہ اِس وقت بغیر میٹر صارفین سے جموں و کشمیر الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے اِی آر سی ) کی جانب سے منظور شدہ ٹیرف کے مطابق فلیٹ ریٹ کی بنیاد پر بِل وصول کئے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ جن کے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہے، نے کہا کہ بجلی کے کنکشن جے اِی آر سی سپلائی کوڈ ریگولیشنز 2023 کے مطابق متعلقہ عملے کی جانب سے فیلڈ ویری فکیشن کے بعد ہی جاری کئے جاتے ہیں۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا،”معائینے کی ٹیمیںجب یہ پاتی ہیں کہ کوئی صارف محکمہ کے ساتھ طے شدہ لوڈ ایگریمنٹ سے زیادہ بجلی اِستعمال کر رہا ہے تو لوڈ میں نظرثانی موقع پر ہی شفاف اور جوابدہ طریقے سے کی جاتی ہے۔“وزیر اعلیٰ رُکن اسمبلی بدھل جاوید اِقبال چودھری کی طرف سے اَپنے حلقہ اِنتخاب کے دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنے کے سلسلے میں اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اُنہوں نے اِس کے جواب میںکہاکہ بدھل اسمبلی حلقے میں غیربجلی یافتہ اور جزوی طور پربجلی یافتہ بستیاں ،موڑیاں جن میں قبائلی اور غیر قبائلی دونوں علاقے شامل ہیں، ڈی اے ۔ جے جی یو اے سکیم کے تحت بجلی فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس کام کا ٹھیکہ 14 اکتوبر 2025 ءکو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو دیا گیا تھا اور اس سکیم کے تحت بدھل حلقے کی 275 بستیوں کو کور کیا جائے گا۔ اِس منصوبے کی تکمیل کی متوقع تاریخ اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔اُنہوںنے مزید کہا کہ عارضی انتظامات سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے ضلع راجوری میں ری ویمپڈ ڈِسٹری بیوشن سیکٹر سکیم (آر ڈِی ایس ایس) کے تحت بجلی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو مضبوط اور اَپ گریڈ کرنے کے لئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا،”فی الوقت مختلف 11 کے وِی فیڈرز پر کام جاری ہے جس میں ایل ٹی بیئر کنڈکٹرز کو اے بی کیبلنگ اور نئے کنڈکٹرز سے تبدیل کرنا، اوورلوڈڈ ڈِسٹری بیوشن ٹرانسفارمر کو بڑھانے اور پرانے ٹرانسفارمروں کو توانائی کی بچت کرنے والے یونٹوں سے بدلنے پر زور دیا جا رہا ہے۔“اُنہوں نے کہا کہ ان اَقدامات کا مقصد قبائلی علاقوں سمیت تمام بستیوں کو محفوظ ، قابل اعتماد اور معیاری بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جے کے پی سی ایل راجوری ضلع کو بجلی کی فراہمی کرنے والے 132 کے وِی اور 220 کے وِی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو مناسب طریقے سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔






