جموں…انفو….وزیر برائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے دوبارہ تصدیق کی کہ محکمہ جنگلات کے تمام شعبوں کے درمیان مناسب ہم آہنگی موجود ہے اور مستحق مستفیدین کو باقاعدہ سے لکڑی فراہم کی جا رہی ہے ۔ وزیر نے یہ بیان آج ایوان میں ایم ایل اے خورشید احمد شیخ کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ کے جے ایف ڈی سی اور جنگلات محکمہ کے دیگر شعبوں کے درمیان لکڑی کے ذخائیر کی نکاسی اور مستفیدین میںان کی تقسیم کیلئے مناسب ہم آہنگی ہے ۔ وزیر نے بتایا کہ فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن حکومت کی پالیسی کے مطابق صارفین کو لکڑی فراہم کرتی ہے اور جے کے ایف ڈی سی باقاعدگی سے اے اے وائی مستفیدین ( اے پی ایل ، بی پی ایل ، پی ایچ ایچ اور این پی ایچ ) کو رعایتی نرخوں پر لکڑی فراہم کر رہی ہے اور اے اے وائی مستفیدین کو خصوصی طور پر 50 فیصد رعائتی نرخوں پر لکڑی فراہم کی جا رہی ہے ۔ وزیر نے مزید بتایا کہ جے اینڈ کے فارسٹ نوٹس کے تحت جنگلات کے محکمے کی علاقائی شاخ نے جنوری 2026 تک 751950 کیوبک فُٹ لکڑی فراہم کی ہے اور جے اینڈ کے فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ نے اپنے سی ٹی ایس ڈیز 211 کے ذریعے مستحق مستفیدین کو 1563571 کیوبک فُٹ لکڑی فراہم کی ہے اور فی الحال ان ڈیپوو¿ں میں 622983 کیوبک فُٹ لکڑی فروخت کیلئے دستیاب ہے ۔ ضبط شدہ لکڑی کے بارے میں جنگلات کے وزیر نے بتایا کہ ضبط شدہ لکڑی کو انڈین فاریسٹ ایکٹ کی دفعہ 52 کے تحت ضبطی کے قانونی عمل کو مکمل کرنے کے بعد فروخت کیا جاتا ہے اور ضبط کی گئی لکڑی کو بعد میں فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ کے حوالے کر دیا جاتا ہے تا کہ اس کا تصرف کیا جا سکے ۔ اِس ضمن میں قانون ساز ارکان ارشد رسول کار اور الطاف احمد وانی ( کلو ) نے ضمنی سوالات اُٹھائے ۔






