جموں….انفو….وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ سکمز صورہ جموں و کشمیر کا ایک اہم طبی اِدارہ ہے جسے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی دور اندیش قیادت میں قائم کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر موصوفہ نے یہ بات آج ایوان میں رُکن اسمبلی پیرزادہ فاروق احمد شاہ کے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت سکمز کی خود مختار حیثیت بحال کرنے اور اس کی اَصل عظمت کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ اکتوبر 2024 ءمیں موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مریضوں کے بہتر علاج کے لئے جموں و کشمیر کی مختلف صحت اِداروں میں ایل آئی این اے سی ، کیتھ لیبز اور دیگرجیسے اعلیٰ درجے کے طبی سہولیات نصب کئے گئے ہیں ۔اُنہوں نے کہا،”مریضوں کی نگہداشت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔“اُنہوں نے اِس بات کو اُجاگر کیا کہ سکمز صورہ 1976 ءمیں قائم کیا گیا تھا اور سابق ریاست جموں و کشمیر کی تنظیم نو کے بعد گورننگ باڈی کی تشکیل سے متعلق کچھ انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ سکمزبدستور ایس کے آئی ایم ایس (ڈگری ڈینے) ایکٹ 1983 کی دفعات کے مطابق ڈگریاں دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ قابل اطلاق ٹرانزیکشن آف بزنس رولز کے مطابق سکمز بدستور محکمہ صحت و طبی تعلیم محکمہ کے تحت ہے اور سکمز کے فنڈنگ ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ بجٹ کی تخصیصات پچھلے موقف کی طرح صحت کے بجٹ کے تحت جاری رہتی ہیں۔اُنہوں نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نو سے قبل سکمز صورہ کا ایک آزاد اِنجینئرنگ وِنگ تھا اور تنظیم نو کے بعد اس وِنگ کو وسیع تر اِنتظامی اِصلاحات کے تحت از سر نو منظم کیا گیا۔وزیر سکینہ اِیتو نے کہا کہ اب سکمز کا اِنجینئرنگ وِنگ پبلک ورکس (آر اینڈ بی) ڈویژن، صورہ میں ضم کیاگیا ہے، جو سکمزکے احاطے میں واقع ہے او اِس ڈویژن کے ذریعے اِس وقت سکمز کے ترقیاتی اورمینی ٹیننس کے کام کئے جا رہے ہیں۔اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ سکمز کے تمام جاری اور زیر اِلتوا¿ منصوبوں کو متعلقہ عمل آوری ایجنسی نے سنبھال لیا ہے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر آگے بڑھایا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بیشتر منصوبے طبعی و مالی دونوں اعتبار سے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔اِس ضمن میں قانون سازاَرکان تنویر صادق، نذیر احمد خان (گریزی)، میر سیف اللہ، ڈاکٹر شفیع احمد وانی اور سیف الدین بٹ نے ضمنی سوالات اُٹھائے۔






