جموں……انفو…..وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج جاوید احمد ڈار نے ایوان کوبتایا کہ ایک منظم اور جامع سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ( ایس ڈبلیو ایم)منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اسے ضلع اننت کے تمام بلاکوں بشمول شانگس، کھوری پورہ، اچھہ بل اور چھترگل میں عملایا جارہا ہے۔وزیر موصوف نے رُکن اسمبلی رئیس احمدخان کی طرف سے ویسٹ مینجمنٹ کے سلسلے میں اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوچھ بھارت مشن۔گرامین (ایس بی ایم۔ جی) کے تحت خاطر خواہ بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع کے تمام 16 بلاکوں میں ہر پنچایت میں ایک سیگریگیشن شیڈ، کمیونٹی کمپوسٹ گڑھے، انفرادی گھریلو کمپوسٹ گڑھے اور سینٹر لائزڈ پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ یونٹس قائم کئے گئے ہیں۔اُنہوںنے یہ بھی کہا کہ بائیوڈی گریڈیبل کچرے کے لئے گھریلو اور کمیونٹی کمپوسٹ گڑھے اور غیر بائیوڈیگریڈیبل کچرے کے لئے کوڑے دان کے ذریعے پنچایت کے لحاظ سے علیحدگی کو مضبوط کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ دیہی گھرانوں میں طرز عمل میں تبدیلی لانے کے لئے آئی اِی سی (اِنفارمیشن ، ایجوکیشن اور کمیونی کیشن )بیداری مہمات اور صلاحیت سازی کے پروگرام سرگرمی سے منعقد کر رہا ہے۔وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ شانگس۔ اننت ناگ مشرقی اسمبلی حلقے میں چار پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ یونٹس فعال ہیں جہاں پندرہ دن میں ایک بار کچرے کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ اَب تک جو بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے اِس میں 84 سیگریگیشن شیڈ، 117 کمیونٹی کمپوسٹ گڑھے، 291 کمیونٹی سوک پٹ، 101 کمیونٹی سینٹری کمپلیکس، 4 پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ یونٹ اور 9 کوڑاکرکٹ جمع کرنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مالی برس کے دوران 5 سیگریگیشن شیڈ، 68 کمیونٹی کمپوسٹ گڑھے، 83 کمیونٹی سوک پٹ اور 84 کمیونٹی سینٹری کمپلیکس زیرِ تکمیل ہیں۔وزیرنے مزید بتایا کہ سوچھ بھارت مشن۔گرامین (ایس بی ایم ۔ جی) کے تحت سالانہ ایکشن پلان 2026-27 اور وی بی۔گرام جی (ایم جی این آر اِی جی اے) کے اشتراک سے سالڈ و لیکوئیڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ڈھانچے کو مزید مستحکم کرنے کے لئے 10 کمیونٹی کمپوسٹ گڑھے، 1998 اِنفرادی کمپوسٹ گڑھے، 25 کمیونٹی سوک پٹ، 10,456 انفرادی سوک پٹ اور 8 موٹرائزڈ گاڑیوں کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔وزیر جاوید احمد ڈار نے نگرانی اور عملی کارکردگی سے متعلق ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ علاقے میں کچرے کے ڈمپنگ کے خطرے سے دوچار مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ تاہم اگر کہیں کھلے عام کچرا پھینکنے کی اطلاع ملتی ہے تو اس کا فوری اَزالہ کیا جاتا ہے اور موزوں ڈمپنگ سائٹس کی شناخت اور الاٹمنٹ کے عمل پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ گھر گھر کوڑاکرکٹ جمع کرنا، سورس پر درجہ بندی، بائیوڈی گریڈیبل کچرے کی کمپوسٹنگ اور باقی ماندہ کچرے کی سائنسی طریقے سے تلفی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اِ س کے علاوہ دیہی گھرانوں کو صفائی اور محفوظ کچرا تلفی کے طریقوں سے آگاہ کرنے کے لئے باقاعدہ بیداری مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں۔وزیر دیہی ترقی و پنچایتی راج نے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کہا کہ ضلع اننت ناگ کے لئے سالانہ ایکشن پلان 2026-27 کے تحت 31 اِضافی گاڑیاں، 670 کمیونٹی کوڑا دان اور 3 لاکھ انفرادی کوڑا دان کی تجویز دی گئی ہے۔اُنہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ سوچھ بھارت مشن۔گرامین ، ایس ایل ڈبلیو ایم اثاثوں کے مو¿ثر آپریشن اور مینی ٹیننس (او اینڈ ایم) انتظامات کو تمام سطحوں پر مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اِس ضمن میں ایک مخصوص پالیسی حتمی مراحل میں ہے جبکہ محکمہ خزانہ نے ایس بی ایم۔جی ، ایس ایل ڈبلیو ایم اثاثوں کی طویل مدتی دیرپائی کو یقینی بنانے کے لئے سالانہ پی آر آئی کیپیکس الاٹمنٹ کا دسواں فیصد حصہ خصوصی طور پر او اینڈ ایم کے لئے مختص کیاہے۔وزیرموصوف نے مزید کہا کہ بلاک اور پنچایت سطح پر ایک مضبوط نگرانی اور جوابدہی کا فریم ورک موجود ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہر پنچایت کے لئے ضمنی قوانین (بائی لاز) مرتب کر کے نوٹیفائی کئے جا چکے ہیں اور فیلڈ سطح کے اہلکاروں کے ذریعے باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔






