سری نگر….انفو….مرکزی سیکرٹری ٹیکسٹائلز نیلم شامی راو¿ نے آج شہامہ کیمپس میں شیرِکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (ایس کے یو اے ایس ٹی۔کے) کے فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز اینڈ اینمل ہسبنڈری میں اینمل فائبر کوالٹی ایشورنس لیبارٹری کا اِفتتاح کیا۔مرکزی سیکرٹری نے اَفسران اور متعلقہ شراکت داروں سے خطاب کرتے ہوئے پشمینہ کی خالصتا اور تقدس کے تحفظ کے لئے حکومت کے عزم کو اُجاگر کیا اور پشمینہ کو ہندوستان کے قدرتی فائبرز کا ”گولڈ سٹینڈرڈ“ قرار دیا۔اُنہوں نے کہا کہ وزارت پشمینہ اور دیگر پشوﺅں کے ریشوں کے لئے ایک مضبوط ٹیسٹنگ اور سرٹیفکیشن کا نظام قائم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔اُنہو ں نے کہا،”سرٹیفکیشن، نمبرنگ اور کوڈِنگ کو مزید سمارٹ بنانا ہوگا تاکہ ہر لیبل شدہ پروڈکٹ کا پتہ لگایا جا سکے۔ اگلے دو سے تین برسوں میں ہمارے پاس مارکیٹ میں آنے والی اصلی پشمینہ مصنوعات کے بارے میں قابلِ اعتماد ڈیٹا ہونا چاہیے۔“نیلم شامی راو¿ نے یقین دِلایا کہ وزارت کسٹمز، بی آئی ایس اور وزارتِ ماحولیات و جنگلات کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ باہمی مشورے سے چلنے والے حل کو تیار کیا جاسکے جو صنعت کی ضروریات اور جنگلی حیات و جانوروں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرے گا۔اُنہوں نے پشمینہ کی پیداواری علاقوں کے قریب ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ لاجسٹک چیلنجوں کو کم کیا جا سکے۔مرکزی سیکرٹری نے کہا،”ہم نہیں چاہتے کہ آپ کی مصنوعات دہرادون ، دہلی یا ہانگ کانگ جا کر ٹیسٹ ہوں۔ موجودہ لیبارٹریوںکی صلاحیت کو بڑھایا جائے گا اور اگر مزید لیبارٹریوں کی ضرورت ہوئی تووزارتِ ٹیکسٹائلز اِضافی فنڈز فراہم کرے گی۔“اُنہوں نے برانڈنگ کے بارے میں کہا کہ وزارتِ ٹیکسٹائلز ’بھارت کا فیبرک‘ مہم کے تحت ایک متحد پشمینہ برانڈنگ اقدام پر کام کر رہی ہے جس میںجی آئی ٹیگنگ اور سرٹیفکیشن کو ایک ہی لیبل کے تحت ضم کیا جائے گا تاکہ نقلی پشمینہ سے بچا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا،”پشمینہ صرف کشمیر کی کہانی نہیں ہے، یہ ہندوستان کی کہانی ہے۔ ہم اسے عالمی سطح پر مختلف فورموں، سورسنگ میگزینوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے فروغ دیں گے۔“مرکزی سیکرٹری نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات کے فائدے براہِ راست کاریگروں اور ب±نکروں تک پہنچنے چاہئیں اور خام مال کی بہتر رسائی، ڈیزائن سپورٹ، مہارت میں بہتری اور آمدنی میں اضافہ جیسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا،”کاریگروں کو اَپنی مصنوعات کی حتمی مارکیٹ ویلیو کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی ملتا ہے۔ ہمیں ایسے نظام بنانے ہوں گے جو ان کی روزی روٹی کا تحفظ کریں اور اس فن کو زندہ رکھیں۔“اُنہوں نے کہا کہ مہارت میں بہتری کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ کاریگروں کا تحفظ اور انہیں بااِختیار بنانا ضروری ہے کیوں کہ اگر کاریگر ختم ہو جائے تو فن بھی ختم ہو جاتا ہے۔اُنہوں نے زور دیا کہ صارفین کو ان دستکاری کی کہانیوں سے جوڑنا ضروری ہے جو وہ پہنتے ہیں۔مرکزی سیکرٹری نے شراکت داروں کو یقین دِلایا کہ معیاری کاری اور ریگولیٹری فریم ورک سے متعلق ان کے خدشات کو اگلے دو ماہ کے اندر بین وزارتی مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا اور موجودہ سہ ماہی کے اختتام تک ایک روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔ اُنہوں نے ٹیکسٹائل کمیٹی ایکٹ کا جائزہ لیتے وقت مستقبل کی مشاورتی کمیٹیوں میں جموں و کشمیر حکومت کی نمائندگی کو شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔اِس سے قبل مرکزی سیکرٹری کا والہانہ اِستقبال ڈین،ایف وِی ایس سی اور اے ایچ نے کیا جس کے بعد لائیوسٹاک پروڈکٹس ٹیکنالوجی ڈویژن کے سربراہ کی طرف سے لیبارٹری سرگرمیوں پر ایک پرزنٹیشن دی گئی اور ٹیکسٹائل کمیٹی کی طرف سے پشمینہ مارک کی ترقی پر پرزنٹیشن پیش کی گئی۔اِس موقعہ پر کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری، کشمیر پشمینہ آرگنائزیشن اور پشمینہ ایکسپورٹرز و مینوفیکچررز آرگنائزیشن کے صدور نے بھی خطاب کیا اور مصنوعات کی تنوع اور بُناہوا پشمینہ مصنوعات کے فروغ کے بارے میں برآمدات بڑھانے پر زور دیا۔وائس چانسلرسکاسٹ کشمیر نذیر احمد گنائی نے خطے میں فائبر ٹیسٹنگ کے اِنفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور کاریگروں کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے پر وزارتِ ٹیکسٹائلز کا شکریہ اَدا کیا۔مرکزی سیکرٹری نے مقامی مصنوعات کے نمائش سٹالوں کا بھی دورہ کیا، لیبارٹری سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور پشمینہ صنعت کے اہم شراکت داروںسے بات چیت کی۔اِس دورے میں مرکزی سیکرٹری کے ہمراہ جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ ٹیکسٹائلزپدمنی سنگلا،ممبر سیکرٹری سینٹرل سلک بورڈ پی شیواکمار، ڈائریکٹر ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم مسرت ضیا¿ ، ڈائریکٹرآئی آئی سی ٹی زُبیر احمد اور دیگرسینئر اَفسران بھی تھے۔






