اننت ناگ …انفو…..وزیر برائے قبائلی امورجاوید احمد رانا نے اننت ناگ میں ایک قبائلی کانفرنس میں شرکت کی اوراُنہوں نے قانون سازوں، قبائلی رہنماو¿ں، دانشوروں، کمیونٹی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے اَرکان پر مشتمل ایک اِجتماع سے خطاب کیا۔اِس موقعہ پرقانون ساز بشیر احمد ویری، الطاف کلو، ظفر علی کھٹانہ، عبدالمجید بٹ اور ریاض احمد خان بھی کانفرنس میں شرکت کی۔وزیر موصوف نے اپنے کلیدی خطاب میں قبائلی علاقوں میں جامع اوردیرپاترقی کے لئے مرکوزیت اور شراکتی منصوبہ بندی کی اہم ضرورت کا اعادہ کیا۔اُنہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر کمیونٹیوں کوبالخصوص مقامی قانون سازوں کی شمولیت کے ذریعے بااِختیار بنانا ، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی اقدامات موثر اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔اُنہوں نے کہا،”حقیقی ترقی کا راستہ مقامی حقائق کو سمجھنے میں مضمرہے۔ جب منصوبہ بندی غیر مرکوزیت اور شراکتی ہوتی ہے تو یہ ایسے حل کی طرف لے جاتی ہے جو بنیاد، جامع اور حقیقی معنوں میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔ مساوات اور شمولیت پر مبنی شراکتی طرزِ عمل ہی وہ راستہ ہے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی کمیونٹی پیچھے نہ رہ جائے۔“وزیرموصوف نے محکمہ قبائلی امور کی بنیادی ترجیحات کا خاکہ پیش کیا جس میں صحت سہولیات کو مضبوط بنانا، تعلیمی رَسائی میں بہتری، دیہی اور ڈیجیٹل رابطے کو فروغ دینا، سکل ڈیولپمنٹ اور روایتی ذریعہ معاش کو بحال کرنا شامل ہے۔اُنہوں نے اعلان کیا کہ کئی پروگرامز زیرِ غور ہیں جن کا مقصد دُور دراز قبائلی علاقوں میں سروس ڈیلیوری میں موجود خلاو¿ں کو پُر کرنا ہے۔جاوید احمدرانانے فارسٹ رائٹس کمیٹیوں (ایف آر سیز) کے ذریعے قبائلی کمیونٹیوں کو جنگلاتی حقوق دینے کو قانونی اور معاشی بااِختیاری کا ایک کلیدی ذریعہ قرار دیا۔وزیر موصوف نے کانفرنس جو اننت ناگ کے ایک معروف میڈیا ہاو¿س کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، میں ثقافتی تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت قبائلی زبانوں، رسم و رواج اور ورثے کو محفوظ رکھنے کے لئے پُرعزم ہے اور ٹریبل ریسرچ اِنسٹی چیوٹ (ٹی آر آئی) اِس ضمن میں تحقیق، دستاویز ی اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اہم رول اَدا کر رہا ہے۔اُنہوں نے حکومت کے ان منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی جن کا مقصد روایتی قبائلی پیشوں جیسے دودھ و گوشت کی پیداوار اور اون کی پروسسنگ سے ذریعہ معاش کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔یہ شعبے نہ صرف دیرپا اِقتصادی راستے فراہم کرتے ہیں بلکہ قبائلی شناخت کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔وزیر جاوید رانا نے کہا کہ قبائلی کمیونٹیوں کو بااِختیار بنانا صرف ایک پالیسی ہدف نہیں بلکہ موجودہ حکومت کی ایک بنیادی عزم ہے۔اُنہوں نے قبائلی نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تخلیقی کاروبار کی جانب قدم بڑھائیں تاکہ نہ صرف خود کفالت حاصل کریں بلکہ اپنی کمیونٹیوںکو بھی بااِختیار بنائیں۔






