جموں…انفو….لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے جموں یونیورسٹی کی 19ویں (دوسرے خصوصی) کانووکیشن تقریب میں شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تبدیلی کو اَپنانے کی اہمیت پر زور دیا اور فیکلٹی ممبران سے کہا کہ وہ ہنر پر مبنی نصاب، مختلف شعبوں میں تعاون اور بدلتی ہوئی رُجحانات کے ساتھ ہم آہنگی پر توجہ دیں تاکہ ہندوستان کی معیشت اور معاشرے کی ضروریات پوری ہو سکیں۔انہوں نے کہا،”تحقیقی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اس کے نتائج پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے اور جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔آرٹیفیشل اِنٹلی جنس آج ایک حقیقت ہے، تکنیکی معاملہ نہیں اور جتنی جلد ہم ٹیکنالوجی اور انسانی صلاحیت کے توازن کو اَپنانے کی ضرورت قبول کریں گے، اتنی ہی ہم جدید تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال سکیں گے۔“لیفٹیننٹ گورنر نے طالب علموں کے لئے زِندگی کے سفر کے لئے پانچ بنیادی اصول بتائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،” سب سے پہلے زِندگی میں کامیاب ہونے کے لئے عاجزی، سیکھنے کی لگن اور محنت کے اصول کبھی نہ بھولیں۔ آپ کی ڈِگری پہلی بار مواقع کے دروازے کھولے گی لیکن یہ آپ کی صلاحیت، عزم، محنت، نئے ہنر سیکھنے کی خواہش اور تبدیلی کو اَپنانے کی صلاحیت ہے جو مستقبل میں بے شمار مواقع فراہم کرے گی۔دوسرا، مہربان اور ہمدرد ربنیں۔ ہنر آپ کو نوکری دلوا سکتے ہیں، لیکن آپ کا کردار اور اقدار آپ کی زِندگی میں ترقی کو یقینی بناتے ہیں۔ آپ کے سفر میں سنسکار، دیانت داری، اعتبار اور بھروسہ آپ کے کیریئر کو دیگر کسی بھی قابلیت سے زیادہ متاثر کریں گے۔تیسرا، اَپنی زِندگی میں کبھی بھی سیکھنا بند نہ کریں۔ پیشہ ورانہ دُنیا ان لوگوں کو انعام دیتی ہے جو بہادر ہوں، سیکھنے، تجربہ کرنے، تبدیلی کو اَپنانے اور غلطیوںکو مہارت میں بدلنے کے لئے ہمیشہ تیار ہیں۔چوتھا، صرف یقین نہ کریں بلکہ تجسس رکھیں۔ یہ آپ کو نئے راستے اختیار کرنے اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرنے میں مدد دے گا۔پانچواں، خود کو نئے ہنر سیکھنے میں مضبوط بنائیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کے اندر سیکھنے کی لگن ہے تو پوری دنیا ایک یونیورسٹی کیمپس بن جائے گی اور یہ آپ کو آئیڈیاز کو حل میں تبدیل کرنے میں مدد دے گی۔“لیفٹیننٹ گورنر نے جموں یونیورسٹی کو ملک کے تعلیمی منظرنامے میں مثالی خدمات کے لئے مُبارک باد دِی۔اُنہوں نے خواتین طالبات کو ان کی بہترین تعلیمی کارکردگی پر بھی مُبارک باد دِی۔اُنہوںنے کہا کہ سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں لیکن معاشرے کو دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”معاشرے کو دہشت گردی کا فعال طور پر مقابلہ کرنا چاہیے کیوں کہ یہ ایک کثیر الجہتی چیلنج ہے اور معاشرے کا کردار مشکوک دہشت گردانہ سرگرمیوں کی شناخت اور رپورٹنگ اور انتہاپسندی کے اثرات کو کم کرنے میں انتہائی اہم ہے۔“اُنہوں نے کہا کہ اگر عوام دہشت گردوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے نہیں ہوئے تو یہ معاشرے کے لئے خطرہ بن جائے گا اور اس کے استحکام، امن اور ترقی کو تباہ کر دے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا،”میں روشن خیال لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے جو دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں اور اِنتہا پسندانہ نظریات پھیلا رہے ہیں۔ آپ کو ایسے عناصر کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔“اُنہوں نے زوردے کر کہا کہ دہشت گردی امن اور ترقی کے لئے بنیادی خطرہ ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں نے تین دہائیوں سے اس کا سامنا کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”لیکن اَب یہاں کے نوجوان ملک کے دیگر حصوں کی طرح اپنے خوابوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بہتر زِندگی اور کیریئر کی خواہش رکھتے ہیں۔“اِس موقعہ پروزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو،وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر اومیش رائے، ممبر جموں یونیورسٹی کونسل پروفیسر اشوک کول، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ، فیکلٹی اور طلباو طالبات کی شرکت کی ۔ اِس کے علاوہ خصوصی کانووکیشن تقریب میں ممبران پارلیمنٹ راجیہ سبھا اِنجینئر غلام علی کھٹانہ اور ست شرما، چیئرپرسن جے اینڈ کے وقف بورڈ ڈاکٹر درخشاں اندرابی، سینئر اَفسران اور ممتاز شہری بھی موجود تھے۔






