سری نگر..۵۱،ستمبر……جے کے این ایس …….لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بڈگام سے آدرش نگر، نئی دہلی تک پہلی وقف شدہ پارسل ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے وادی کے سیب کے کاشتکاروں اور تاجروں کےلئے تجارت اور کاروبار کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کےلئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا۔جے کے این ایس کے مطابق ا س موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہا کہ یہ ٹرانزٹ ٹائم کو نمایاں طور پر کم کرے گا اور ہزاروں کسانوں کےلئے آمدنی کے مواقع میں اضافہ کرے گا اور خطے کی زرعی معیشت کو فروغ دے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے بڈگام سے نئی دہلی کے درمیان وقف مال بردار ٹرین سروس کےلئے ہندوستانی ریلوے کو بھی مبارکباد دی۔منوج سنہا نے کہاکہ نئی مال بردار ٹرین سروس یونین ٹیریٹری کے سیب کے کاشتکاروں کےلئے اپنی پیداوار کو ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے کیلئے ایک بڑا قدم ہے۔ انہوںنے مزیدکہاکہ یہ ایک تیز اور زیادہ اقتصادی نقل و حمل کا طریقہ فراہم کرے گا، بازار کے روابط کو مضبوط کرے گا اور کسانوں کی زندگی اور معاش میں بہتری لائے گا۔انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر نقل و حرکت میں رکاوٹ، ٹپوگرافی اور شدید بارشوں کی وجہ سے پھلوں کے کاشتکاروں کو نقصان ہوتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والی مال بردار ٹرین سروس ہر روز سیب اور دیگر خراب ہونے والی اشیاءکی نقل و حمل کرے گی۔پارسل ٹرین سروس (جوائنٹ پارسل پروڈکٹ،ریپڈ کارگو سروس) تمام دنوں میں کام کرے گی اور تمام پارسل اشیاءکے لیے موزوں ہے۔8 پارسل وین کوچ ٹرین کا وزن تقریباً 180 ٹن (ہر کوچ میں 23 ٹن) ہے۔ مکمل پارسل وین کی بکنگ آن لائن موڈ میں دستیاب ہے، جبکہ چھوٹی کنسائنمنٹس آف لائن موڈ کے ذریعے بھی بک کی جا سکتی ہیں۔ بڈگام سے صبح 6بجکر15 روانہ ہونے والی مال بردار ٹرین سہ پہر3 بجے سے شام4بجکر30 تک باری برہمن جموں میں رکے گی۔، اور اگلے دن صبح 5بجکر30منٹ پر آدرش نگر، نئی دہلی پہنچے گی۔ زراعت کی پیداوار، دیہی ترقی اور پنچایتی راج، کوآپریٹو اور انتخابی محکموں کے وزیرجاوید احمد ڈار، ڈویڑنل ریلوے مینیجر، جموں وویک کمار، ایڈیشنل ممبر ریلوے بورڈ (مارکیٹنگ اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ) ڈاکٹر منوج سنگھ، ڈویڑنل کمشنر کشمیر انشول گرگ، آئی جی پی کشمیروی کے بردی، وویک گپتا، آئی جی پی ریلوے؛ ڈاکٹر بلال محی الدین بھٹ ڈپٹی کمشنر، بڈگام؛ ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، ایس ایس پی سری نگر؛ اچیت سنگھل، سینئر ڈویڑنل کمرشل منیجر اور ریلوے، سول اور پولس انتظامیہ کے دیگر سینئر افسران موجود تھے۔






