سری نگر…۵۱، نومبر….جے کے این ایس … جموں وکشمیر کا گرمائی دار الحکومت سرینگر جمعہ کی رات کو خوفناک دھماکوں سے دہل اٹھا۔ یہ دھماکہ مبینہ طور پر دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہوئے کار بلاسٹ معاملے میں ضبط کیے گئے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ہوا۔ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ دھماکہ فرید آباد میں ضبط کیے گئے حساس مواد کو سنبھالنے کے دوران حادثاتی طور پر ہوا۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق ہریانہ کے فریدآبادشہر سے ضبط کیا گیا آتش گیر مواد نوگام پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا جوجمعہ کودیررات نادانستہ طور پر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس واقعے میں 9 افراد ہلاک اور 32 لوگ زخمی ہوگئے۔ بہت سے زخمیوں کو سرینگر کے ٹرسٹیری کیئر ہسپتال میں لایا گیا۔جمعہ کورات گئے تقریباً 11 بجکر20 منٹ پر ہونے والے دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ قابل ذکر ہے کہ سرینگر کا نوگام پولیس اسٹیشن دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس سے منسلک دہشت گرد ماڈیول تحقیقات کے مرکز میں ہے۔پولیس حکام نے بتایاکہ ریکوری کی بڑی نوعیت کی وجہ سے، یہ طریقہ کار کل سے جاری تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریکوری کی غیر مستحکم اور حساس نوعیت کی وجہ سے نمونے لینے کے عمل کو انتہائی احتیاط کےساتھ انجام دیا جا رہا تھا تاہم بدقسمتی سے جمعہ کو رات تقریباً 11بجکر20منٹ پر حادثاتی طور پر دھماکہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ اس واقعے کی وجہ کے بارے میں کوئی اور قیاس آرائیاں غیر ضروری ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ہلاکت خیز دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔پولیس چیف کاکہناتھاکہ اس افسوسناک اورحادثاتی واقعہ میں 9 لوگ مارے گئے جن میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کا افسر، فارنزک سائنس لیبارٹری کے3 اہلکار،پولیس کے کرائم ڈپارٹمنٹ کے 2 فوٹوگرافر،ایک نائب تحصیلدارسمیت 2 ریونیو اہلکار اور ایک شہری( درزی )شامل ہیں۔اس کے علاوہ، واقعے میں 27 پولیس اہلکار، 2 ریونیو اہلکار اور ملحقہ علاقوں کے 3 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کےلئے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ پولیس حکام نے مزید کہا کہ مرنے والوں کی لاشوں کو پولیس کنٹرول روم سرینگر لے جایا گیا ۔ حکام نے بتایا کہ کم از کم 30 پولیس اہلکاروں اور 3 شہریوں کو سرینگر کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ذرائع نے مزید بتایاکہ جائے وقوع پر یکے بعد دیگرے ہونے والے چھوٹے دھماکوں نے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو فوری طور پر امدادی کارروائیاں کرنے سے روک دیا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ فی الحال فرانزک ٹیم تھانے پہنچ گئی اور ٹیم نے جائے وقوع پر مواد کا معائنہ کیا۔ برآمد ہونے والے کچھ دھماکا خیز مواد کو پولیس کی فرانزک لیب میں رکھا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بین ریاستی دہشت گردی ماڈیول کا بنیادی مقدمہ نوگام پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور ضبط کیے گئے360 کلو گرام حساس مواد کا بڑا حصہ پولیس تھانہ نوگام میں رکھا گیا تھا۔پولیس تھانہ نوگام میں پھٹنے والا مواد امونیم نائٹریٹ بتایا جا رہا ہے جو اس ہائی پروفائل کیس کا حصہ تھا جس میں بین ریاستی دہشت گردی ماڈیول کے قبضے سے مجموعی طور پر2900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا مواد برآمد کیا گیا تھا جسے پولیس نے’وائٹ کالر‘دہشت گردی کے طور پر بیان کیا۔ذرائع نے بتایا کہ دھماکہ جمعہ کو رات کے تقریباً 11بجکر20منٹ پر اس وقت ہوا جب فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم، پولیس اہلکار اور مقامی نائب تحصیلدار سٹیشن کے اندر قبضے میں لیے گئے مواد کی جانچ کر رہے تھے۔نوگام پولیس سٹیشن رہائشی کالونی کے اندر واقع ہے اور اس مقام سے ابتدائی ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر نمودار ہوئیں ان میں کارکنوں کو آگ بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی دھماکہ خیز مواد پھٹا، تھانے کی عمارت اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس گاڑیوں کےساتھ پولیس کے اعلیٰ حکام اور سکیورٹی فورسز کے وہاں پہنچنے کے کچھ دیر بعد بچاو¿ کا کام شروع ہوا۔حکام نے مزید کہا کہ دھماکے سے پولیس اسٹیشن کے اندر کافی نقصان ہوا اور قریبی مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس دھماکے کا اتنا شدید اثر تھا کہ اس نے سرینگر کے وسیع علاقے کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے اثرات 200 کلو میٹر کے دائرے تک محسوس کئے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے سری نگر کے آرمی کے 92 بیس اسپتال اور SKIMSصورہ میں داخل کرایا گیا ہے، جب کہ کچھ کو علاج کے لیے مقامی نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔واضح رہے کہ چند دنوں قبل جموں و کشمیر پولیس نے ایک بین ریاستی دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کیا جس میں مبینہ طور پر کشمیر، اتر پردیش اور فرید آباد سے چار ڈاکٹروں سمیت سات افراد کے ملوث تھے جس میں ڈاکٹر مزمل احمد گنائی، ڈاکٹر عدیل راتھر، ڈاکٹر شاہد شاہین اور دہلی دھماکے میں مرنے والے ڈاکٹر عمر نبی شامل تھے۔ سرینگر کے نوگام میں ہوا یہ دھماکہ اسی معاملے میں ضبط کیے گئے حساس مواد کے پھٹنے سے ہوا۔






