سری نگر….۵۱، نومبر…جے کے این ایس …جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نلین پربھات نے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہوئے ہلاکت خیز دھماکے کو ایک حادثہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کوئی دہشت گردانہ حملہ نہیں تھا بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا ،اورکوئی اور قیاس آرائیاں غیر ضروری ہیں۔یادرہے فرید آباد سے ضبط کر کے لائے گئے دھماکہ خیز مواد کا نمونے لینے کے دوران یہ خطرناک واقعہ جمعہ کو رات دیر11بجکر20منٹ پر پیش آیا۔جے کے این ایس کے مطابق ڈائریکٹرجنرل آف پولیس جموں وکشمیر نلین پربھات نے پولیس کنٹرول روم کشمیر سری نگرمیں سینئر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس تھانہ نوگام میں دھماکہ دہشت گردی کی سازش یا کوئی حملہ نہیں تھا، بلکہ محض ایک حادثہ تھا جو ایف ایس ایل کی ٹیم کی جانب سے نمونے لینے کے دوران پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ فرید آباد سے ضبط کیے گئے دھماکہ خیز مواد سے نمونہ لینے کا عمل2دنوں سے جاری تھا، اور اسی دوران یہ حادثہ جمعہ کو رات تقریباً 11بجکر20منٹ بجے پیش آیا۔ڈی جی پی نلین پربھات نے کہاکہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے، اس کی تفصیلی تحقیقات جاری ہے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن نوگام میں دہشت گردی کے ماڈیول کیس (ایف آئی آر 162/2025 کی جانچ کے دوران، 9اور10 نومبر کو فرید آباد میں ضبط کیا گیا بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد، کیمیکلز اور ریجنٹس یہاں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مزید فرانزک اور کیمیائی معائنے کے لیے تجویز کردہ طریقہ کار کے بعد نمنے لیے جانے تھے۔انہوںنے کہا کہ برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کشمیر لے جایا گیا تھا اور تھانہ نوگام کے کھلے علاقے میں محفوظ طریقے سے رکھا گیا تھا۔مقرر شدہ طریقہ کار کے ایک حصے کے طور پر، بازیابی کے مواد کے نمونے مزید فرانزک اور کیمیکل امتحان کے لئے بھیجے جانے تھے۔ ریکوری کی بڑی نوعیت کی وجہ سے، یہ طریقہ کار کل سے جاری تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریکوری کی غیر مستحکم اور حساس نوعیت کی وجہ سے نمونے لینے کے عمل کو انتہائی احتیاط کےساتھ انجام دیا جا رہا تھا تاہم بدقسمتی سے جمعہ کو رات تقریباً 11بجکر20منٹ پر حادثاتی طور پر دھماکہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ اس واقعے کی وجہ کے بارے میں کوئی اور قیاس آرائیاں غیر ضروری ہیں۔۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ہلاکت خیز دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں۔پولیس چیف کاکہناتھاکہ اس افسوسناک اورحادثاتی واقعہ میں 9 لوگ مارے گئے جن میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کا افسر، فارنزک سائنس لیبارٹری کے3 اہلکار،پولیس کے کرائم ڈپارٹمنٹ کے 2 فوٹوگرافر، 2 ریونیو اہلکار اور ایک شہری( درزی )شامل ہیں۔اس کے علاوہ، واقعے میں 27 پولیس اہلکار، 2 ریونیو اہلکار اور ملحقہ علاقوں کے 3 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج کےلئے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ڈی جی پی نے یہ بھی کہا کہ تھانے کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے، اور ملحقہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔نلین پربھات بتایا کہ پولیس اسٹیشن کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور دھماکے سے آس پاس کی عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کی حد کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور واقعہ کی وجہ کے بارے میں تفصیلی جانچ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پیش آنے والے اس واقعے کی وجہ پوچھی جا رہی ہے۔ڈی جی پی نلین پربھات نے کہاکہ جموں و کشمیر پولیس غم کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔






