جموں….انفو….چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے پروفیسر منوج نذیر اور ردھیما کول کی تصنیف کردہ تین کتابوں کی رسم رونمائی اَنجام دِی۔چیف سیکرٹری نے مصنفین کو مُبارک باددیتے ہوئے کہا کہ یہ مطبوعات حیاتیاتی تنوع، فلوری کلچر اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجوں کی جانب توجہ مبذول کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں بالخصوص جموں و کشمیر جیسے ماحولیاتی طور پر نازک خطے میں جہاں یہ مسائل عموماً مرکزی دھارے کے مباحثے میں کم پیش آتے رہے ہیں۔اَتل ڈولونے کہا کہ مصنفین کو سراہا جانا چاہئے کہ اُنہوں نے ان اہم مگر نظرانداز کئے گئے پہلوو¿ں کو علمی اور اَدبی مباحثے کے ذریعے دستاویزی شکل دِی اور اُجاگر کیا۔جو کتابیں جاری کی گئی ہیں اِن میں پروفیسر منوج نذیر اور ردھیما کول کی ‘الکمی آف دِی ریڈروز، پروفیسر منوج نذیر اور ردھیما کول کی’ دی امپیکٹ آف دی کلائمیٹ چینج آف فلا وررنگ‘ اور ردھیما کول اور ڈاکٹر جیوتسنا موریہ کی تصنیف ’ دی مین بیہائنڈ دی گلیڈیولس ریوولیوشن اِن اِنڈیا‘شامل ہیں۔پروفیسر منوج نذیر فلوری کلچر کے میدان میں ایک ممتازاور نامور سائنسدان ہیں اور بھارت میں گلیڈیولس انقلاب کی قیادت کے لئے وسیع پیمانے پر جانے جاتے ہیں۔ پلانٹ بائیوٹیکنالوجی اور باغبانی کی تحقیق میں ان کی خدمات نے سائنسی ترقی اور پھولوں کی کاشت کے طریقوں پر دیرپا اثرات مرتب کئے ہیں۔ردھیما کول بائیوٹیکنالوجی کی محقق اور مصنفہ ہیں جنہیں فلوری کلچر اور نباتاتی علوم میں نمایاں تحقیقی تجربہ حاصل ہے۔ اُن کا علمی کام اور تحریریں سائنسی تحقیق اور عوامی فہم کے درمیان اِنٹرفیس کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہیں۔ڈاکٹر جیوتسانا موریہ بائیوٹیکنالوجی کی سکالر اور مصنفہ ہیں جو اَدویاتی پودوں اور فلوری کلچر پر اَپنی تحقیق کے لئے جانی جاتی ہیں اور سائنسی اِشاعتوں اور کتابوں کے ذریعے نمایاں خدمات اَنجام دے چکی ہیں۔






