جموں….انفو….وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں صوبے کے مختلف اضلاع سے محکمہ سکول کے 863 کنٹی جینٹ پیڈ ورکروں (سی پی ڈبلیو) کو ریگولرائزیشن کے تقرری نامے سونپے ۔اِ س موقعہ پر سماگراہ شکھشا کے تحت ” وِدیا سمیکشا کیندر “کا باضابطہ افتتاح کیا گیا اور اِنفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) اور تجزیاتی پلیٹ فارموں کا آغاز بھی کیا گیا جن کا مقصد جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔تقریب میں وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سکولی تعلیم ، اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبران قانون ساز اسمبلی پیارے لال اور اِنجینئر خورشید احمد،سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم رام نواس شرما، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا بھوانی رکوال اور ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں نسیم چودھری نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اَپنے خطاب میں ایک دیرینہ مطالبے کی تکمیل پر اطمینان کا اِظہار کرتے ہوئے ان سی پی ڈبلیوز کے صبر اور لگن کو سراہا جنہوں نے طویل عرصے سے مستقلی کا اِنتظار کیا۔ اُنہوں نے وزیر سکینہ اِیتو ، محکمہ سکولی تعلیم اور اِنتظامی قیادت کی مربوط کوششوں کی بھی ستائش کی۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ اس وقت تعلیمی شعبے میں تقریباً ایک ہزار بنیادی ڈھانچے منصوبے جاری ہیں جن کے لئے محکمہ سکولی تعلیم کے تحت تقریباً 450 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مارچ 2026 ءتک جموں و کشمیر کے تمام ہائیر سیکنڈری اور ہائی سکولوں میں سمارٹ کلاس رومز اور لیبارٹریز دستیاب ہوں گی تاکہ طلبا¿ قومی سطح پر اَپنے ہم عصروں کا مقابلہ کر سکیں۔اُنہوں نے حکومت کے پہلے سال کی عکاسی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفر چیلنجوں سے بھرپور رہا لیکن اِصلاحات کے حصول نے بے حد اطمینان بخشا۔ اُنہوں نے نئے ریگولر ہوئے ملازمین پر زور دیا کہ وہ خود کو عوامی خدمت کے لئے وقف کریں اور اُنہوں نے اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا،” آئندہ نسل کا مستقبل اس تعلیم کے معیار پر منحصر ہے جو ہم آج فراہم کرتے ہیں۔“وزیر اعلیٰ نے جموں خطے کے 25 این اِی اِی ٹی اور جے اِی اِی کامیاب طلبا کو اسناد اور ٹیبلٹس پیش کئے اور انہیںتعلیمی بہتری کے لئے مسلسل محنت جاری رکھنے کی ترغیب دی۔وزیر برائے تعلیم سکینہ اِیتو نے ریگولرائزیشن کو” سینکڑوں کنبوں کے لئے راحت اور پہچان کا لمحہ“ قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر میں تقریباً 400 سی پی ڈبلیوزکو پہلے ہی مستقل کیا جا چکا ہے اور باقی زیرِاِلتوا¿ معاملات پر تیزی سے کام جاری ہے۔اُنہوں نے حکومت کے پہلے سال کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹیوں(ڈِی پی سیز) اور عملے کی ترقیوں کو تیز کرنے، اعلیٰ تعلیم میں بھرتیوں میں تیزی اور غیر فعال کالجوں کی بحالی کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ سماگراہ شکھشا کے تحت تقریباً 600 ترقیاتی منصوبے زیرِ عمل ہیں جن میں سمارٹ لیبارٹریوں اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری شامل ہے جو قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق ۔مشیر ناصر اسلم وانی نے اس دن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ایک سالہ تعمیری حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ اُنہوں نے سی پی ڈبلیوز کی ثابت قدمی کو سراہا اور حکومت کے تیز تر حکمرانی اورخدمات کی فراہمی کو تیز کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پی ڈبلیوز کی مستقلی حکومت کے اِنصاف اور شمولیت کے عزم کا ثبوت ہے۔تقریب کی شروعات میں سیکرٹری سکولی تعلیم محکمہ رام نواس شرما نے اِستقبالیہ خطبہ پیش کیا جس میں اِدارہ جاتی اِصلاحات، ٹیکنالوجی کے استعمال، صلاحیت سازی اور مساوی رَسائی کے ذریعے تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے کے حکومت کے عزم کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے کہا کہ سی پی ڈبلیوز کی ریگولرائزیشن انتظامیہ کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے کارکنوں کو استحکام اور وقار فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے جنہوں نے بے لوث عوامی خدمت انجام دی۔ اِسی دوران وزیر اعلیٰ نے سماگراہ شکھشا کے تحت ایک جامع تعلیمی نگرانی اور تجزیاتی پلیٹ فارم ’ودیا سمیکشا کیندر“ کا اِفتتاح کیا۔محکمہ سکولی تعلیم نے کئی نئے آئی سی ٹی اَقدامات بھی متعارف کئے جن میںجے اینڈ کے ڈیجی لرن، شکھشک سہائک، جے کے ایجوکیشن انسائٹس، جے کے ایم آئی ایس، جے کے سی آر ایم اور ٹیچرز اینالیٹکس پورٹل شامل ہیں۔






