جموں….انفو…… وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے قانون ساز اسمبلی میں 13 مطالبات اور 19 ضمنی مطالبات پیش کئے جنہیں بعد میں سپیکر عبد الرحیم راتھرنے ایوان میں بحث کے لئے پیش کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا،”میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ڈیمانڈ نمبر 1، 3، 4، 6، 8، 9، 10، 14، 19، 20، 24، 31 اور 33 میں درج مجموعی رقم سے زائد نہ ہونے والی رقم حکومت کو منظور کی جائے تاکہ 31 مارچ 2027 ءکو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ادائیگیوں کے سلسلے میں پیش آنے والے اخراجات پورے کئے جا سکیں جیسا کہ ہر مطالبے کے مقابل فہرستِ بزنس میں متعلقہ مدات درج ہیں۔“یہ مطالباتِ زر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، منصوبہ بندی، نگرانی و ترقیات،اِنفارمیشن، بجلی، خزانہ، پارلیمانی امور، قانون و انصاف، ریونیو، ہاو¿سنگ، سیاحت، مہمان نوازی و خاطر تواضع ، اسٹیٹس،کلچر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق ہیں اور ان محکموں کا چارج وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔اُنہوں نے مزید کہا،”میں یہ بھی پیش کرتا ہوں کہ ضمنی ڈیمانڈ نمبر 1، 2، 3، 6، 7، 8، 10، 12، 13، 17، 18، 19، 20، 25، 26، 30، 32، 35 اور 36 میں درج مجموعی رقم سے زائد نہ ہونے والی رقم حکومت کو منظور کی جائے تاکہ 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ادائیگیوں کے سلسلے میں پیش آنے والے اخراجات پورے کئے جا سکیں جیسا کہ ہر مطالبے کے مقابل فہرست بزنس میں متعلقہ مدات درج ہیں۔“مطالباتِ زر پر بحث آج 18 اور 19 فروری کو جاری رہے گی جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ 19 فروری کی دوپہر کو مطالباتِ زر پر جواب دیں گے جس کے بعد صوتی ووٹ کے ذریعے مطالباتِ زر کی منظوری دی جائے گی۔






