کٹرا………..انفو……لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ایک تاریخی سنگ کی نشاندہی کرتے ہوئے شری شنکر آچاریہ مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ مندر شری ماتا ویشنو دیوی شرائین کے قریب پہاڑی ٹیلوں پر واقع ،یہ منصوبہ دہائیوں بعد حقیقت کا روپ اختیار کر رہا ہے جو پہلی بار 1960 کی دہائی میں تصور کیا گیا تھا۔مندر کمپلیکس پر کل خرچ جو 31.51 کروڑ روپے ہے، کی مکمل مالی ذمہ داری شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ برداشت کرے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اعلان کیا کہ شرائین بورڈ مندر کمپلیکس میں 50 تجارتی دکانیں تعمیر کرے گا جو اُن زمین مالکان کو الاٹ کی جائیں گی جنہوں نے اسے مقدس مقصد کے لئے عطیہ کیا۔شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ (ایس ایم وِی ڈِی ایس بی ) اور متعلقہ زمین مالکان کے درمیان2025 میں ایک مفاہمت نامہ پر میں دستخط ہوئے جس میں زمین مالکان نے 41 کنال زمین مقدس مقصد کے لئے عطیہ کرنے کی رضامندی ظاہر کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”آئندہ برسوں میں، شری شنکر آچاریہ مندر لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے روحانی مرکز کا کام کرے گا۔ یہ ہندوستان کی دائمی ثقافت، اجتماعیت، مضبوطی اور عمیق روحانی و ثقافتی شعور کی زندہ علامت ہوگا۔“اُنہوں نے کہا ،”شری ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے آنے والے عقیدت مند شری شنکر آچاریہ مندر بھی جائیں گے جس سے خطے میں اِقتصادی سرگرمی میں اِضافہ ہوگا۔ اس آمد سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی کاروبار مضبوط ہوں گے اور مجموعی خطے کی ترقی میں تازہ توانائی آئے گی۔“لیفٹیننٹ گورنر نے کٹرا شہر کے دورے کے دوران روحانی ترقی مرکز میں ‘سمردھ ناری، سمردھ بھارت’ پروگرام کی صدارت کیا اور اُنہوں نے وہاں ریاسی اور ملحقہ علاقوں کے سیلف ہیلپ گروپوں کی خواتین کاروباریوں سے بات چیت کی۔اُنہوں نے شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈکے ہر عقیدت مند کے آرام، حفاظت اور وقار کو ترجیح دیتے ہوئے روحانی مراکز کو متحرک رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ نے ہمیشہ مقامی کمیونٹی کی فلاح کو ترجیح دی ہے۔ اس نے نہ صرف بڑے پیمانے پر مقامی روزگار پیدا کیا اور کاروباری سرگرمی کو سہارا دیا بلکہ مرکزی علاقے میں ایک نئی سماجی اور ثقافتی شناخت کو تشکیل دینے میں بھی اہم کردار اَدا کیا ہے۔“اُنہوں نے کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ نے ایک حالیہ میٹنگ میںمندر اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو ہندوستان کے سب سے بہترین روحانی مرکز میں تبدیل کرنے کے اہم فیصلے کو منظوری دی ہے۔اُنہوں نے اعلان کیا کہ شرائین بورڈ نے پوجا سماگری اور پرساد کی سالانہ خریداری کو موجودہ 5 کروڑ روپے سے بڑھا کر 12 کروڑ روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے خطے میں روزگار کے مواقع مزید مضبوط ہوں گے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”ایک اہم اقدام یہ تھا کہ مقامی سیلف ہیلپ گروپس، خواتین، اور نوجوان کاروباریوں سے خریداری کو ترجیح دی جائے تاکہ خطے کی معیشت کو فروغ ملے۔ اس اقدام سے 20 مزید سیلف ہیلپ گروپس سپلائی چین میں شامل ہوں گے اور تقریباً 1,500 خواتین کو روزگار فراہم ہوگا جو ریاسی، اُودھمپور اور جموں کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان گروپوں سے سالانہ خریداری آئندہ برسوں میں 50 کروڑ روپے تک بڑھائی جائے گی۔“اُنہوںنے مقدس شہر کے مستقبل کے بارے میں اَپنے ویژن کا بھی اِشتراک کیا ۔ اُنہوں نے کہا،” میں آنے والے سالوں میں کٹرا کو ایک منفرد عالمی شناخت بنانے کا تصور کرتا ہوں۔سرمایہ کاری، اعلیٰ معیار کی بنیادی ڈھانچے، شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ کے تعاون سے اعلیٰ معیار کا اِنفراسٹرکچر، کاروباری سرگرمیوں کا عروج اور نوجوانوں کے لئے بے شمار مواقع حاصل ہوں گے۔“منوج سِنہا نے مزید کہا کہ شری ماتا ویشنو دیوی شرائین بورڈ عالمی معیار کے ثقافتی اور روحانی مرکز کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے جو معاشرے کے لئے دیرپا استحکام کی بنیاد فراہم کرے گا۔تقریب میں ممبران شری ماتا وشنو دیوی شرائن بورڈ شری سریش کمار شرما اور گنجن رانا، وائس چانسلر ایس ایم وِی ڈِی یو پروفیسر پرگتی کمار، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، سیکرٹری رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پی آر محمد اعجاز اسد، ڈی آئی جی اودھمپور اور رِیاسی رینج سارہ رضوی،سی اِی او ایس ایم وِی ڈِی ایس بی سچن کمار واشیا،ضلع ترقیاتی کمشنر رِیاسی ندھی ملک، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر افسران، ریاسی اور ملحقہ اضلاع کے خواتین سیلف ہیلپ گروپوں کے ممبران نے شرکت کی۔






