
تحریر/عابد ابراہیم ،ایڈیٹر انچیف بڈگام ٹائمز
سینئر صحافی چودھری ریاض بڈھانہ سے ان کی زندگی کے سفر کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے جاننے کا موقع ملا اور ہم نے اس دوران اپنے ایک پروگرام زندگی کا سفر میں اُن سے تفصیلی گفتگو کی اور اُن کے ماضی کے حوالے جانا تاہم ان کے زندگی کے سفر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہماری اپنی کچھ تحقیق بھی شامل ہے ۔
ابتدائی تعارف سے ہی محسوس ہوا کہ ریاض بڈھانہ کی زندگی بہت زیادہ مشکلات اور مصائب سے دوچار رہی ہے۔ زندگی کے ابتدائی سفر میں جہاں انہوں نے بطور معلم کام کیا وہیں مجبوری کی حالت میں محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ بھی کرتے رہے ہیں پر ہر مشکل سفر میں ہمت نہیں ہاری، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا اور آگے بڑھتے رہے۔
چودھری ریاض بڈھانہ 11 نومبر 1987 کو ناگہ بل میں نظام الدین بڈھانہ کے گھر پیدا ہوئے،ان کے والد اپنے علاقے میں بہادری، دیانتداری اور ایمانداری کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ناگہ بل ایک خوبصورت گاوں ہے جہاں گوجر بردادری کے علاوہ کشمیری برادری سے وبسطہ لوگ بھی رہتے ہیں اور یہ گاوں مشہور سیاحتی مقام یوسمرگ کے دامن میں واقع ہے، انکا ضلع بڈگام تحصیل چرار شریف ہے۔ انکے پردادا جان محمد بڈھانہ ضلع کولگام کے ایک گاوں کونٹہ مرگ سے ہجرت کرکے یہاں ناگہ بل میں آباد ہوئے تھے اور یہی اُنہوں نے گورسی خاندان میں شادی کی ، تاہم آج بھی ان کے خاندان کے لوگ پہاڑیوں کے دامن میں واقع کونٹہ مرگ میں آباد ہیں۔انہوں نے اپنی بنیادی تعلیم اپنے ہی آباوائی گاوں میں واقع مڈل اسکول سے حاصل کی پانچویں پاس کرنے کے بعد اُن کا داخلہ گجر بکروال ہوسٹل بڈگام میں ہوگیا اور پھر گورنمنٹ مڈل اسکول بڈگام اور بائز ہائر سیکنڈری اسکول بڈگام سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے بعد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور اسی یونیورسٹی سے ایم ،اے کیا اور ابھی بھی مزید تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اُنہں ادب سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بچپن سے ہی شاعری کا کافی شوق تھا۔
انہوں نے اردو زبان میں غزلوں کے علاوہ اپنی مادری زبان گوجری میں بھی بہت سی غزلیں نظمیں اور سی حرفی لکھی ہیں، سال 2013 میں روزنامہ اسٹیٹ رپورٹر اخبار کے ساتھ منسلک ہوئے اور بعد میں اسی اخبار کے بیورو چیف بن گئے۔ وہ اردو لکھنے اور بولنے میں کافی اچھے تھے، جس کی وجہ سے انہیں اردو اخبارات میں منفرد مقام حاصل ہوا اور سال 2022 میں وہ انڈین ٹائمز کے منیجنگ ایڈیٹر بن گئے۔ بڈھانہ نے سیاسی مضامین سمیت سینکڑوں مضامین لکھے ہیں۔وہ مختلف اخبارات کیلے اداریہ بھی لکھتے رہے ہیں
انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بھرپور محنت کی۔ وہ ہمیشہ سیاحتی مقام یوسمرگ کی آواز بنے اور وہاں مواصلاتی نظام اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اُنہوں نے اپنے گاوں میں عام لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کروانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور آج ان کی بدولت یہاں پبلک ہیلتھ سنٹر کی عمارت بھی تعمیر ہوئی ہے۔ انہوں نے چرارشریف اور خانصاحب کے دیہی علاقوں میں لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کروانے کیلے بھی کافی محنت کی ہے، اور خاص بات یہ کہ وہ پہلے سیاست میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔
شائد یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے سرینگر پارلیمانی سیٹ کیلے کاغذاتِ نامزدگی بھی داخل کرائے تھے جو بعد میں رد ہوگیے تھے اور پھر اُنہوں نے نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کی تھی حالانکہ وہ اُس سے پہلے بھی نیشنل کانفرنس کے ساتھ منسلک رہے شروع میں چرارشریف میں پی ڈی پی کو بنانے میں بھی اُن کے خاندان کا اہم کردار رہا ہے تاہم بعد میں اُنہیں نیشنل کانفرنس کی سیاست پسند نہ آئی اور وہاں کچھ سال گزارنے کے بعد وہ نیشنل کانفرنس سے الگ ہو گئے اور سماجی کاموں میں لگ گئے اور پھر پکھر پورہ حلقہ سے ڈی ڈی سی کا الیکشن لڑا، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔
بعد میں انہوں نے خاموشی اختیار کی اور سیاست میں بہت کم دلچسپی ظاہر کی اور آج بھی سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے وہ مورثی سیاست کے سخت خلاف ہیں جس کا اندازہ اُن کے تحریر کردہ مضامین سے لگایا جاسکتا ہے، وہ عوام کی خدمت کے لیے ڈی ڈی سی ممبر بننا چاہتے تھے۔
لیکن نیشنل کانفرنس نے انہیں مینڈیٹ نہیں دیا، بعد میں انہوں نے پیپلز مومنٹ کے سائے میں رہکر الیکشن لڑا، جس کا جموں و کشمیر میں کوئی وجود نہیں تھا، جو بعد میں بکھر گئی۔
پھر کچھ برس خاموش رہنے کے بعد اُنہوں نے خاموشی توڑی اور سید الطاف بخاری کی بنائی ہوئی ایک نئی سیاسی جماعت، جسے اپنی پارٹی کے طور پر جانا جاتا ہے کے لیے اپنے قلم کا خوب استمال کیا حالانکہ اس سے پہلے اُنہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت کیلے اپنے قلم کا استمال کبھی نہیں کیا تھا، تاہم یہ سمجھنا تھوڑا مشکل ہے کہ کیا بڈھانہ نے نیشنل کانفرنس سے الگ ہوکر اپنے غصے کی بَھڑاس اپنے قلم کے زریعے سے نکالی یا پھر سید الطاف بخاری سے دوستی کی لاج پالی کل ملاکے اس دوران اُنہوں نے اپنی پارٹی کی پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے کے لیے اپنے قلم کا خوب استعمال کیا، ریاض بڈھانہ کے دوست بہت کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں سے میری ایک وقت میں گہری دوستی ہوا کرتی تھی لیکن پتہ نہیں وہ بعد میں کیوں دشمن بن گئے جن کی وجہ سے میری مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھنے لگیں اور میں نے اُن سے ترک تعلق کرلیا ۔
تاہم ایک بچپن کا دوست ہے جس کا نام مظفر پسوال بتایا گیا جس سے بغیر کسی لالچ کے دوستی رہی ہے جو آج بھی برقرار ہے۔
ریاض بڈھانہ کے بہتر تعلقات جہاں دیگر شعبہ جات سے وابسطہ لوگوں کے ساتھ ہے وہی جموں کشمیر کے چند سیاست دانوں کے ساتھ بھی ماضی اور حال میں اُن کے اچھے تعلقات رہے ہیں جن میں اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری، سینئر نائب صدر غلام حسن میر، ظفر اقبال منہاس، یاور دلاور میر، پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون، نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما عبدالرحیم راتھر، نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی۔ ظفر علی کھٹانہ، کانگریس کے غلام احمد میر، پی ڈی پی کے جنرل سیکرٹری غلام نبی لون ہانجورہ شامل ہیں، البتہ انہوں نے سابق رکن اسمبلی و حال پارلیمنٹ ممبر میاں الطاف احمد لاروی کی شخصیت پر بھی ایک مضمون لکھا ہے جو میری نظر سے گزرا ہے لیکن ریاض بڈھانہ سے یہ معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ اُنکی کبھی بھی خوشگوار ماحول میں ملاقات نہیں ہوئی ہے اسی لیے وہ میاں صاحب کے مزاج کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں ریاض بڈھانہ زیادہ تر ادبی شخصیات کی محفلوں میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ ادب ’زندگی‘ کے اظہار کا نام ہے۔ ادب لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں جذبہ و فکر بھی شامل ہوتے ہیں لفظوں کے ذریعے جذبے، احساس یا فکر و خیال کا اظہار منفرد ہوتا ہے اور اس سے کم و بیش ہر وہ بات جس سے کسی جذبے، احساس یا فکر کا اظہار ہوتا ہے اور جو منہ یا قلم سے نکلے، ادب کہلائے گی۔ لیکن ہر وہ بات جو منہ سے نکلتی ہے یا ہر وہ بات جو قلم سے ادا ہوتی ہے، ادب نہیں ہے۔
ادب سیکھنے کیلے ادبی شخصیات کی محفلوں میں بیٹھنا اور اُن سے کچھ سیکھنا ضروری ہے۔
ریاض بڈھانہ سادہ طبیعت کے آدمی ہیں لیکن خود مختار ہیں، وہ کسی کے سامنے سر جھکانا پسند نہیں کرتے اور جس بھی چیز کو اپنا موضوع منتخب کرتے ہیں، وہ اُس کا پورا نقشہ کھینچ کر تحریری شکل میں قارئین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ اگر وہ کسی بھی شخص یا شخصیت کا انٹرویو کرتے ہیں تو وہ اسے دونوں صورتوں میں بیان کرتے ہیں۔ تحریری بھی اور بصری بھی، ان کا ماننا ہے کہ تصویروں میں انسان بہت کم عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے، لیکن تحریروں میں انسان ہمیشہ زندہ رہتا ہے تحریر کے بغیر تصویر معنیٰ نہیں رکھتی۔
وہ ہمیشہ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہے کہ ’’صحافت کسی کی جاگیر نہیں ہے، جو محنت کر کے آگے آئے گا وہی کامیاب و کامران ہوگا۔
وہ ہمیشہ نوجوان پیشہ ور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور خود بھی کوئی خبر شائع کرنے سے پہلے لازمی خبروں کی تحقیق کرتے ہیں تہہ تک جاتے ہیں اُن کا ماننا ہے کہ آج کل زیادہ زرد صحافت کا دور ہے اور زرد صحافت کی ایک پست ترین شکل جس میں کسی خبر کے سنسنی خیز پہلو پر زور دینے کے لیے اصل خبر کی شکل اتنی مسخ کر دی جاتی ہے کہ اس کا اہم پہلو قاری کی نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
وہ ہمیشہ صحافت کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ اور وہ جو بھی کام کرتے ہیں، صفائی سے کرتے ہیں۔
اگرچہ انھوں نے بہت کم شخصیات کے انٹرویو کیے ہیں لیکن جن کے بھی انٹرویو کیے گئے ہیں وہ ادب کے دائرے میں رہکر کیے گیے ہیں، ریاض بڈھانہ نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ ادب کے دائرے میں ہی رہکر لکھا ہے۔






