سری نگر..انفو…چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے اِنٹرنیشنل کراپس ریسرچ اِنسٹی چیوٹ فار دی سیمی ایریڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) حیدرآباد کے ایک وفد کے ساتھ جموں و کشمیر میں ” کلائمیٹ سمارٹ ایگر ی کلچر“ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے تفصیلی بات چیت کی۔اِس وفد کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اِنٹرنیشنل کراپس ریسرچ اِنسٹی چیوٹ فار دی سیمی ایریڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) ڈاکٹر سٹینفورڈ بلیڈنے کی جبکہ سینئر سائنسدانوں میں ڈاکٹر منظور ڈار اور ڈاکٹر ڈیمارس اوڈینی بھی شامل تھے۔ اِس موقع پر ڈائریکٹر ریسرچ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (سکاسٹ کے) پروفیسر ہارون نائیک بھی موجود تھے۔بات چیت کا مرکزی نکتہ سکاسٹ کشمیرمیں خشک علاقوں کی زراعت کے لئے”ہمالیائی سینٹر آف ایکسی لینس فار ڈرائی لینڈ ایگری کلچر “کے قیام پر تھا جسے جموں و کشمیر کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اوردیرپازراعت میں رہنما بنانے کے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مجوزہ مرکز تحقیق، اِختراعات اور زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کا ایک مرکز ہوگاجو ہمالیائی خطے کے منفرد زرعی ماحولیاتی نظام کے لئے موزوں ہوگا۔ اِس کے اہم شعبہ جات میں موسمیاتی فصلوں کی اقسام کی ترقی،بیج کے غیرمرکزی نظام کو مضبوط بنانا،دوبارہ پیدا کرنے والے اور خشک زمین کے کھیتی باڑی کے طریقوں کو فروغ دینا ،مٹی اور پانی کے تحفظ کو آگے بڑھانا اِس کے علاوہ پورے جموں وکشمیر یوٹی میں کسانوں پ مرکوز ویلیو چینز کو بڑھانا شامل ہوں گے۔دورانِ بات چیت ایک اہم پہلو جموں و کشمیر کے لئے چارے کی حفاظت کی اہم اہمیت کو اُجاگر کیاگیا کیوں کہ جموں و کشمیر کے دیہی اور بارانی علاقوں میں ایک بڑی تعداد مویشی پروری پر انحصار کرتی ہے۔چیف سیکرٹری کو چارہ پیدا کرنے کے پروگراموں کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت سے آگاہ کیا گیا۔ سال بھر معیاری چارے کی دستیابی نہ صرف مویشیوں کی پیداوار کو بہتر بنائے گی بلکہ دیہی کمیونٹیوں کے لئے غذائی اور معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنائے گی۔یہ مرکز فصل اور مویشی پر مبنی نظام، اعلیٰ تحقیق اور کسانوں کی ضروریات پر مبنی اختراعات کو یکجا کرے گا تاکہ دیرپامعاش،آب و ہوا کے جھٹکوں کے خلاف لچک اور جموں و کشمیر کے کسانوں کی طویل مدتی خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔






