سری نگر…۱۲، نومبر….جے کے این ایس….. دہلی کار دھماکوں کے بعداُترپردیش پولیس نے آگرہ کے منٹولا علاقے میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی ہے۔ انہیں تصدیق کےلئے تھانے بھی بلایا گیا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق پولیس کی کارروائی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، کیونکہ لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ ماملہ کیا ہے؟ لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں یقین نہیں تھا۔ پولیس نے جب جانکاری دی تو لوگوں نے راحت کی سانس لی۔ای ٹی وی بھارت کی ایک خبرمیں کہاگیاہے کہ آگرہ کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ بھی سکیورٹی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں۔سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر کشمیر سے بھی تحقیقات۔ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ ایل آئی یو کے ان پٹ کی بنیاد پر پورے شہر میں تصدیق کی جا رہی ہے۔ ایل آئی یو کو اطلاع ملی تھی کہ منٹولا میں کشمیری نوجوان رہتے ہیں لیکن مقامی پولیس اس سے لاعلم تھی۔ اسلئے کشمیری نوجوانوں کو جمعرات کو تھانے بلایا گیا۔ ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اس بات کا تعین کیا گیا کہ آیا ان کےخلاف کوئی کیس زیر التوا ءتو نہیں ہے۔کشمیری نوجوانوں کی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر کشمیر سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔یہ بھی انکشاف ہوا کہ تمام کشمیری نوجوان برسوں سے یہاں سردیوں میں گرم کپڑے بیچنے آتے رہے ہیں۔ سردیوں سے پہلے انہوں نے آگرہ میں مکان کرائے پر لے لیا۔ تاہم پولیس کی کارروائی سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کشمیریوں کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے۔ڈی سی پی سٹی سید علی عباس نے بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کی ابتدائی تفتیش میں کوئی مشتبہ شخص سامنے نہیں آیا۔ شہر کے دیگر علاقوں میں رہنے والے کشمیری نوجوانوں کی بھی اسی طرح تصدیق کی جا رہی ہے۔دہلی کار بم دھماکے کے سلسلے میں لکھنو¿ میں گرفتار کیے گئے ڈاکٹر پرویز کا آگرہ سے تعلق تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے آگرہ کے ایس این میڈیکل کالج سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سکیورٹی ایجنسیاں اور یوپی اے ٹی ایس کی ٹیمیں اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ ڈاکٹر پرویز اپنی پڑھائی کے دوران کس کس سے رابطے میں تھے۔ اس کے قریبی ساتھی کون ہیں؟ کون کون اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ڈاکٹر پرویز کی بہن ڈاکٹر شاہین بھی آگرہ آئی تھیں۔ نتیجتاً ایجنسیاں ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر شاہین کے رابطوں کی چھان بین کر رہی ہیں۔ ایس ٹی ایف اور اے ٹی ایس کی ٹیموں نے ایس این میڈیکل کالج کا دورہ کیا اور پوچھ گچھ کی۔ ٹیم نے ہاسٹل اور شعبہ طب کی بھی تلاشی لی۔ 2009 سے 2016 تک کے جونیئر ڈاکٹروں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔






