سری نگر…..۱۲، نومبر…جے کے این ایس …..مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو ملک کے شہریوں سے انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (SIR) کے جاری ملک گیر عمل کی مکمل حمایت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل ملک اور جمہوریت کی حفاظت کےلئے ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ اس مشق کےساتھ کہ ’ہر ایک درانداز‘ کو انتخابی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گجرات کے بھوج کے ہری پور میں بارڈر سیکورٹی فورس کے61 ویں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں آج یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اس ملک میں سے ایک کے گھس بیٹھے(درانداز) کو چن چن کر باہر نکلیں گے، یہ ہمارا پران (عہد) ہے (آج میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اکیلے ہی تمام دراندازوں کو نکالیں گے) یہ اس ملک اورجمہوریت کوکو بچانے کا یہ عمل ہے۔انڈیا بلاک میں شامل پارٹیوں کا نام لئے بغیر،امت شاہ نے کہا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں نام نہاد دراندازوں کو ختم کرنے کی مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔انہوںنے ایسی پارٹیوںکو خبردار کیا کہ بہار کے انتخابات نے پہلے ہی این ڈی اے کو مینڈیٹ دے دیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کاکہناتھاکہ بدقسمتی سے، کچھ سیاسی جماعتیں دراندازوں کو ختم کرنے کی مہم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ سیاسی جماعتیں شہریوں سے انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (SIR) کے عمل اور الیکشن کمیشن کے ووٹر لسٹ کی صفائی کی مخالفت کر رہی ہیں۔انتخابی فہرستوں کو صاف کرنے پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، امت شاہ نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظر ثانی (SIR) ملک اور ہماری جمہوریت کی حفاظت کا ایک عمل ہے۔انہوںنے ہر ایک سے اپیل کی کہ وہ الیکشن کمیشن کے ذریعے کئے گئے عمل کی حمایت کریں۔وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ آج میں ملک کے لوگوں سے الیکشن کمیشن کے ذریعہ کئے جانے والے ایس آئی آر کے عمل کی مکمل حمایت کرنے کی اپیل کرنا چاہتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ میں ان سیاسی جماعتوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں جو دراندازوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ملوث ہیں کہ بہار کے انتخابات ملک کے لوگوں کا مینڈیٹ ہیں۔امت شاہ نے آپریشن سندورکے دوران دکھائی گئی بہادری کےلئے بی ایس ایف اور مسلح افواج کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ کچھ ہی دنوں میں بی ایس ایف اور فوج کی بہادری کی وجہ سے پاکستان نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا (آپریشن سندور کے دوران) اور اس کی وجہ سے پوری دنیا پر یہ واضح ہوگیا کہ ہندوستان کی سرحدی اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے ورنہ انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔1965میں قائم دنیاکی سب سے بڑی ’سرحدی حفاظت کرنے والی فورس‘بارڈر سیکورٹی فورسزBSFنے اپنا 61 ویں یوم تاسیس منایا۔ بی ایس ایف دنیا کی سب سے بڑی سرحدی حفاظت کرنے والی فورس ہے، جس میں2.7 لاکھ سے زیادہ اہلکار کام کرتے ہیں، اور 6 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، اس نے ملک کی مضبوط حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔اس وقت بی ایس ایف کے پاس193 (بشمول 03 این ڈی آر ایف) بٹالین اور 7 بی ایس ایف آرٹی رجمنٹ ہیں جو پاکستان اور بنگلہ دیش کےساتھ بین الاقوامی سرحد کی حفاظت کر رہے ہیں۔یہ فورس 1965 میں پاک بھارت جنگ کے بعد سرحدی حفاظت کو بڑھانے کےلئے قائم کی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر، بی ایس ایف کو 25 بٹالین کے ساتھ کھڑا کیا گیا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ، پنجاب، جموں و کشمیر، شمال مشرقی خطہ وغیرہ میں عسکریت پسندی کےخلاف لڑنے کےلئے قوم کی ضرورت کے مطابق اس میں توسیع کی گئی تھی۔ (ایجنسیاں)






