رام جنم بھومی مندر کی تعمیر انصاف کے راستے سے ہوئی ہے/وزیر اعظم مودی
اجودھیا/22جنوری/یواین آئی/وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو کہا کہ اجودھیا میں رام جنم بھومی مندر کی تعمیر انصاف کے راستے سے ہوئی ہے اور اس کے لئے میں عدلیہ کا مشکور ہو کہ اس نے انصاف کے اقدار کا تحفظ کیا۔مودی نے رام جنم استھان پر نوتعمیر شدہ مندر میں رام للا کی پران پرتشٹھا کےبعد وہاں موجود دھرم آچاریوں، سادھ سنتوں ودیگر معزز شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے آئین کے پہلے صفحے میں بھگوان ورجامنا ہیں۔ آئین کے وجود میں آنے کے بعد بھی دہائیوں تک برپھوں شری رام کے وجود کو لے کر قانونی لڑائی چلی۔ میں شکریہ ادا کرونگا عدلیہ کہ جس نے انصاف کو ملحوظ خاطر رکھا۔اور منصفانہ طریقے سے پربھو رام کا مندربنا۔انہوں نے کہا کہ صدیوں کے بے مثال صبر اور ان گنت قربانیوں اور تپسیا کے بعد ہمارےرام آئے ہیں، ہمارے رام للا اب ٹینٹ میں نہیں رہیں گے اب مندر میں رہیں گے۔میرا پورا یقین ہے کہ آج یہاں جو کچھ ہوا ہے اس کی خوشی، ملک کے کونے کونے میں رام بھکتوں کو ہورہی ہوگی۔یہ پل پاک ہے۔ یہ توانائی، یہ گھڑی بھگوان رام کا ہم سب پر آشیرواد، 22جنوری 2024 کا یہ سورج حیرت انگیز چمککر آیا ہے۔ 22 جنوری کیلنڈر پر لکھی ایک تاریخی نہیں یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔انہوں نے کہارام مندر بھومی پوجن کے بعد سے یومیہ پورے ملک میں امنگ و جوش بڑھتا ہی جارہا تھا۔ تعمیراتی کام دیکھ ملکی باشندوں میں ہر دن ایک نیا اعتمادپیدا ہوارہا تھا۔ آج ہمیں صدیوں کے اس صبر کا صلہ ملا ہے۔ آج ہمیں رام کا مندر ملا ہے۔ غلامی کی ذہنیت کو توڑ کر اٹھ کھڑا ہو راشٹر ، تاریخ کے ہردم سے حوصلہ لیتا ہے ہوا راشٹرایسے ہی نئی تاریخ رقم کرتا ہے۔ آج ہزار سال بعد بھی لوگ آج کی اس تاریخ کی، اس پل کا ذکر کریں گے۔ اور یہ کتنی بڑی رام کر پرپا ہے کہ ہم سب اس پل کو جی رہے ہیں۔ ایسا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔مودی نے کہامیں آج پربھو شری رام سے معافی بھی مانگتا ہوں۔ کہ ہمارے قربانی تپسیا میں کچھ تو کمی رہ گئی ہوگی کہ ہم اتنی صدیوں تک یہ کام کرنہیں پائے۔ آج وہ کمی پوری ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے پربھو رام آج ہمیں ضرور معاف کریں گے۔اس دور میں جدائی تو 14سالوں کی تھا اس عہدے میں تو اجودھیا اور ملکی باشندوں نےسینکڑوں سال کی جدائی کو برداشت کیا ہے ہماری کئی کئی نسلوں کو ان کو برداشت کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پربھو رام تو بھارت کے آتما کے ذرے ذرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ رام بھارتی باشندوں کے دل میں ہیں۔ کسی کے ضمیر کو ٹٹول کے دیکھیں تو اسی اپنائیت اندازہ ہوگا اور یہی جذبہ ہر جگہ ملے گا۔اسی اس سے زیادہ ملک کوایڈجسٹکرنے والا فامولا اور کیا ہوسکتا ہے۔ہرعہد میں لوگوں نے رام کو جیا ہے۔ ہر زمانے میں لوگوں نے اپنے اپنے لفظوں میں اپنی اپنی طرح سے یاد کیا ہے۔ قدیم زمانے سے ہی بھارت کے ہر کونے کے لوگ رام رس آچمان کرتے رہے ہیں۔مودی نے کہا رام کے نظریات، رام کی اقدار،رام کی تعلیمات سب جگہ ایک جیسی ہیں۔ آج اس تاریخی لمحے میں ملک ان افرادکو بھی یاد کررہا ہے جن کی قربنیایوں کی وجہ سے ہم یہ دن دیکھ رہے ہیں۔ رام کے اس کام میں کتنے ہی لوگوں نے قربانی اور تپسیا کر کے دکھایا۔ ان بے شمار رام بھکتوں، ان بے شمار کارسیکوں اور ان بے شمار سنت مہاتماو¿ں کے ہم سب مقروض ہیں۔ساتھیوں آج کا یہ موقع جوش کا باعث تو ہے ہی لیکن یہ لمحہ ہندوستان سماج کے پختگی کا بھی لمحہ۔ ہمارے یہ یہ موقع صر ف وجئے کا نہیں ونئے کا بھی ہے۔دنیاکی تاریخ گواہ ہے کہ کئی ملک اپنی ہی تاریخ میں الجھ جاتے ہیں۔ ایسے ممالک نے جب بھی اپنی تاریخ کی الجھی ہوئی گانٹھوں کھولنے کی کوشش کی تو انہیں کامیابی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بلکہ کئی بار تو پہلے سے زیادہ مشکل حالات بن گئے۔لیکن ہمارے ملک نے تاریخ کی اس گانٹھ کو جس سنجیدگی اور جذباتیت کے ساتھ کھولا ہے وہ یہ بتایا ہے کہ ہمارا مستقبل ہمارے ماضی سے بہت شاندار ہونے جارہا ہے۔انہوں نے سابقہ حکومتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک وقت تھا جب کچھ لوگ کہتے تھے کہ رام مندر بنا تو آگ لگ جائے گی ایسے لوگ ہندوستان کے سماج جذبے کی پاکیزگی کو نہیں جان پائے۔ رام للا کے اس مندر کی تعمیر ہندوستانی سماج کے امن، حوصلہ،آپسی ہم آہنگی اور یکجہتی کا مظہر ہے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ تعمیر کسی آگ کو نہیں بلکہ توانائی کو جنم دے رہی ہے۔ میں آج ان لوگوں سے اپیل کرونگا کہ آئے آپ محسوس کیجئے اپنی سوچ کو دوبارہ غور کیجئے۔رام آگ نہیں، رام توانائی ہے، رام تنازع نہیں رام حل ہیں۔ رام صرف ہمارے نہیں رام سب کے ہیں۔رام مندر سماج کے ہرطبقے کو روشن مستقبل کے راستے پر آگے بڑھنے کی ترغیب لے کر آیا ہے۔یواین آئی






