سری نگر…انفو…وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں سیلاب کے بعد اِمدادی اور بحالی اَقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں وزرا¿سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار، ستیش شرما اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری اتل ڈولو،وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا؛ پرنسپل سیکرٹری پی ڈبلیو ڈی، کمشنر سیکرٹری خوراک ، شہری رسدات و اَمورِ صارفین، سیکرٹری سکولی تعلیم، جموںوکشمیر صوبوںکے صوبائی کمشنران، اِنسپکٹر جنرل پولیس (نیشنل ہائی وے) ضلع ترقیاتی کمشنروں اور دیگر متعلقہ اَفسران نے بھی میٹنگ میںشرکت کی جبکہ کئی افسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اَپنے تخمینے جلد از جلد مکمل کریں تاکہ ریلیف و بحالی کے منصوبے بروقت مرکزی حکومت کو بھیجے جا سکیں۔ اُنہوں نے سیلاب کے دوران جاری کئے گئے فنڈز کے بارے میں دریافت کیا اور بتایا گیا کہ کئی اَضلاع میں یہ رقم عارضی بحالی پر خرچ کی جا چکی ہے۔ اُنہوںنے مستقل حل پر زور دیتے ہوئے محکمہ جل شکتی کو ہدایت دی کہ وہ وقتی مرمت سے اِجتناب کریں اور صرف مستقل بحالی کے کاموں پر توجہ دیں۔اُنہوں نے سیلاب کے بعد کئے گئے سکولوں کے سیفٹی آڈِٹ کا بھی جائزہ لیااور اس عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے سوشل میڈیا پر سری نگر۔ جموں ہائی وے (این ایچ۔44) پر پھلوں سے لدے ٹرکوں کی ’جان بوجھ کر تاخیر‘ سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی کمشنروں اور آئی جی پی (نیشنل ہائی وے) کو ہدایت دی کہ تصدیق شدہ معلومات بروقت عوام تک پہنچائی جائیں۔وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ٹرکوں کی سست رفتاری بعض مقامات پر ہائی وے کی خراب حالت کی وجہ سے ہے، نہ کہ کسی جان بوجھ کر تاخیر کے باعث۔دورانِ میٹنگ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں تاریخی مُبارک منڈی ہیرٹیج کمپلیکس کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش کا اِظہار کیا۔ صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار نے بتایا کہ سرکولر روڈ کے ساتھ زمین بیٹھ جانے سے عمارت کے پچھلے حصے کو نقصان پہنچا ہے جس کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنی کابینہ وزرا¿کو ہدایت دی کہ وہ اَپنے متعلقہ محکموں کے تخمینے جلد حتمی شکل دیں اور ضلعی حکام ان اعداد و شمار کی تصدیق کریں تاکہ مرکزی حکومت کو ایک جامع بحالی پیکیج پیش کیا جا سکے۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ مضبوط تیاریوں کو یقینی بنائیں، پشتوں کو مضبوط کریں اور جان ومال کے تحفظ کے لئے مو¿ثر ردِّعمل کا طریقہ کار وضع کریں۔ اُنہوں نے متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ حالیہ ہماچل پردیش لینڈ سلائیڈ میں جاں بحق ہو ئے جموں و کشمیر کے باشندوں کے اہل خانہ کے لئے ایکس گریشیا ریلیف کی منظوری سے متعلق رِپورٹ پیش کریں۔اِس سے قبل صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ نے سیلاب کے اثرات کے بارے میں ایک تفصیلی رِپورٹ پیش کی۔ اُنہوں نے بتایا کہ صوبہ کشمیر میں 16 مکانات مکمل طور پر تباہ، 57 کو شدید نقصان پہنچا اور 791 کوجزوی طور پر نقصان پہنچا جن تمام متاثرین کو اِمداد فراہم کی جا چکی ہے۔ ایک شخص کی ہلاکت پر معاوضہ دیا گیا جبکہ اننت ناگ میں پیش آ ئے دیگر متعلقہ واقعات میں 3 ہلاکتوں کا معاوضہ ریڈ کراس کے ذریعے اَدا کیا گیا۔ میٹنگ کو مویشیوں کے نقصان، مویشیوں کے شیڈوں کو پہنچنے والے نقصان اور ان معاملات میں ادا کئے گئے معاوضے کے بارے میں بتایا گیا۔بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل میں بتایا گیا کہ تقریباً 90 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں جن میں سے 52 سڑکوں کی مرمت ہو چکی ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ 87 پُل اور کلورٹ بھی متاثر ہوئے جن میں سے نصف سے زائد کی مرمت کی جا چکی ہے۔ بڈگام کے زونی پورہ شالینا کے مقام پر جہلم میں ایک شگاف کی مرمت کی جا رہی ہے۔ پاور سیکٹر میں تباہ شدہ کھمبوں ، کنڈکٹروں اور ٹرانسفارمروں کی بحالی کے لئے زائد از 9.34 کروڑ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔ 563 متاثرہ واٹر سپلائی سکیموں میں سے 385 مکمل طور پر بحال ہو چکی ہیں جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ 115 سکولوں کی عمارتوں کا آڈِٹ کیا گیا جن میں سے 43 سکولوں کو سیفٹی سرٹیفکیٹ پہلے ہی جاری کئے چکے ہیں۔صوبائی کمشنر کشمیر نے زرعی نقصان کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 12,500 ہیکٹر سے زائد زمین متاثر ہوئی جبکہ تقریباً 315 ہیکٹر باغبانی کے تحت زمینیں متاثر ہوئیں جن میں سب سے زیادہ نقصان اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ اضلاع میں تقریباً59 لاکھ روپے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ۔ ضروری اشیا¿ کی فراہمی مستحکم بتائی گئی جبکہ پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کا ذخیرہ کئی دنوں کے لئے کافی ہے۔ کشمیر سے جموں اور دہلی پھلوں کی ٹرانسپورٹیشن آسانی سے جاری ہے اور اَب تک زائد اَز 1.37 لاکھ ڈبے پہلے ہی منتقل ہو چکے ہیں۔صوبائی کمشنر جموں نے صوبہ جموں کی صورت حال پیش کی جس میں کئی جانی اور مالی نقصانات کی رِپورٹ دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ سیلاب میں 150 افراد جاں بحق، 178 زخمی اور 33 لاپتہ ہوئے جن میں سب سے زیادہ اموات کشتواڑ میں ہوئیں۔ زائد اَز 4,200 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ 8,600 مکانات کوجزوی طور پر نقصان پہنچا جن میں سب سے زیادہ متاثرہ اَضلاع ادھمپور اور جموں ہیں۔ مویشیوں کا نقصان 1,455 رہا اور 1,300 ہیکٹر سے زیادہ فصلوں کو نقصان پہنچا۔یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیٹ ڈیزاسٹر ر سپانس فنڈ سے 40 کروڑ روپے سے زائد کی مالی اِمداد دی گئی ہے جبکہ ایچ سی ایم ریلیف فنڈ سے 3.35 کروڑ روپے اِضافی جاری کئے گئے ہیں۔ تمام سیکٹروں میں بحالی کا کام جاری ہے جس میں 2,700 کلومیٹر سے زائد سڑکیں اور نصف سے زائد متاثرہ پُلوں کو عارضی طور پر بحال کردیا گیا ہے۔ سڑکوں اور پُلوں کی مستقل بحالی کا تخمینہ تقریباً 893 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ پاور سیکٹر بھی بُری طرح متاثر ہوا جس میں 49,000 سے زائد ڈِسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز متاثر ہوئے جن میں سے تقریباً تمام بحال ہو چکے ہیں۔ 2,000 سے زائد واٹر سپلائی سکیمیں متاثر ہوئیں جن میں سے 1,600 عارضی طور پر بحال کی جا چکی ہیں۔ مستقل بحالی کے لئے تقریباً 195 کروڑ روپے درکار ہیں۔تعلیمی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا اور زائد اَز8,800 سکولوں کا سیفٹی آڈِٹ کیا گیا۔ ان میں سے 5,500 کو سیفٹی سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے جن میں سے تقریباً 5,200 محفوظ قرار دئیے گئے جبکہ 758 سکولوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا۔ پبلک ہیلتھ شعبے میں 442 پانی کے نمونے ٹیسٹ کئے گئے اور زائد اَز 1,500 طبی کیمپ لگائے گئے جن میں تقریباً 80,000 اَفراد کا طبی معائینہ کیا گیا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بیماری کے پھیلنے کی کوئی انتباہی علامت نہیں ملی ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ایک جامع پیکیج کی منظوری کے بعد بنیادی ڈھانچے کی مستقل بحالی اور معاش کی بحالی جنگی بنیادوں پر شروع کی جائے گی۔






