سری نگر/22 اکتوبر /انفو/ چیف سیکرٹری اَتل ڈولونے نیتی آیوگ کے رُکن ڈاکٹر وِی کے پال کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی تاکہ جموں و کشمیر کے مختلف اَضلاع میں نئے قائم ہوئے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں (جی ایم سیز) میں ٹیلی آئی سی یو سہولیات قیام کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جا سکے۔یہ میٹنگ ایک مضبوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی کریٹیکل کیئر نیٹ ورک کو شروع کرنے کے طریقہ¿ کار کی وضاحت کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد پورے یوین ٹیریٹری کے دیہی اور دُور دراز علاقوں کے صحت اِداروں کو مضبوط کرنا ہے۔ دورانِ بات چیت ڈاکٹر پال نے قیمتی معلومات فراہم کیںاور ایپوللو ٹیلی ہیلتھ، میڈانتا، کلاو¿ڈ فزیشن اور ہیلتھ نیٹ جیسے معروف صحت ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے کامیاب ٹیلی ۔آئی سی یو ماڈلوں کی نشاندہی کی۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے منفرد جغرافیہ اور اِدارہ جاتی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ماڈلوںکا جائزہ لے کر بہترین حکمت عملی تیار کی جائے۔ڈاکٹر پال نے مشورہ دیا کہ ہر ہسپتال کی مخصوص ضروریات اور بنیادی ڈھانچے کا بغور جائزہ لیا جائے۔ اُنہوں نے صلاحیت سازی، مسلسل طبی تعلیم اور عملے کی عملی تربیت کی ضرورت پر زور دیا کیوں کہ یہ ٹیلی ۔آئی سی یو کے فریم ورک کی کامیابی اور دیرپائی کے لئے نہایت اہم ہیں۔چیف سیکرٹری نے ڈاکٹر پال کی رہنمائی اور تکنیکی مشوروں پر شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ یونین ٹیریٹری اِنتظامیہ جدید صحت نگہداشت کی اِختراعات کو اَپنے عوامی صحت کے نظام میں مربوط کرنے کے لئے پُر عزم ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر حکومت ہب اینڈ سپوک ماڈل کے تحت ٹیلی۔ آئی سی یو سہولیات قائم کر رہی ہے جو چوبیس گھنٹے طبی نگرانی، ماہر ین کی مشاورت اور فوری کلینیکل معاونت فراہم کرے گا۔ اِس ماڈل کے تحت نئے قائم کردہ جی ایم سیز کو مرکز سے منسلک سپوک کے طور پر کام کرنا ہوگا۔اُنہوں نے مو¿ثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے تجویز دی کہ جموں و کشمیر سے ماہرین کی ایک ٹیم ملک کے معروف صحت اِداروں کا دورہ کرے تاکہ موجودہ ٹیلی۔ آئی سی یو ہبس اور کمانڈ سینٹروں کے ڈیزائن اور عملی طریقہ¿ کار کا سٹیڈی کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ مشکل جغرافیائی حالات اور اِنسانی وسائل کی کمی کے باوجود اِنتظامیہ ایک ایسا ماڈل تیار کرنے کے لئے پُر عزم ہے جو علاقائی ضروریات کو پورا کرے اور صحت خدمات کو جڑ سے مضبوط بنائے۔اَتل ڈولو نے اگلے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ہدایت دی کہ وہ اس اَقدام کے تکنیکی، اِنتظامی اور مالی پہلوو¿ں کو حتمی شکل دے۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک جدید ٹیلی ۔آئی سی یو ہب قائم کیا جائے جو ماہر پیشہ ور اَفراد اور ٹیکنالوجی پارٹنروں سے لیس ہو تاکہ مسلسل طبی رہنمائی، تربیت اور معیار کی یقین دہانی فراہم کی جا سکے۔ یہ ہب طبی عملے کے لئے تربیتی اور رہنمائی مرکز بھی ہوگا اور مستقبل میں مزید علاقائی ہبس کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ نے بتایا کہ ہر نئے جی ایم سی میں کم از کم 10 بیڈز کی ٹیلی ۔آئی سی یو یونٹ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اُنہوں نے اَب تک کی تیاریاں اور مرحلہ وار عمل آوری کا خاکہ پیش کیاجس میں بنیادی ڈھانچے کی تیاری، ٹیکنالوجی کی خریداری اور تربیتی ماڈیول شامل ہیں۔شُرکا¿ نے اَپنی کریٹیکل کیئر میڈیسن کے تجربے کی بنیاد پر قیمتی مشورے دئیے اور ٹیلی۔ آئی سی یو سہولیات کو موجودہ ہسپتال نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے طریقے بتائے۔ مختلف جی ایم سیز کے پرنسپلوں نے بھی آپریشنل فزیبلٹی،اِنٹر کنکٹویٹی اور طبی فوائد پر اَپنے نقطہ نظر کا اِشتراک کیا۔اس سیشن میں ایم ڈِی این ایچ ایم ، ایم ڈِی جے کے ایم ایس سی ایل ، جی ایم سیز، ڈینٹل کالجوں کے پرنسپلوں اور دیگر متعلقہ اَفسران بھی موجود تھے۔بات چیت نے جموں و کشمیر انتظامیہ کے ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ ٹیکنالوجیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے مرکوز نقطہ نظر کی نشاندہی کی تاکہ صحت نگہداشت تک رَسائی میں بالخصوص دُور دراز اور غیر محفوظ علاقوں میں تفاوت کو دور کیا جا سکے ۔ تجویز کردہ ٹیلی۔ تجویز کردہ ٹیلی ۔آئی سی یو نیٹ ورک یونین ٹیریٹری کی کریٹیکل کیئر فراہم کرنے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھائے گا جس سے وقت پر طبی مداخلت، ماہر نگرانی اور بہتر مریض کے نتائج ممکن ہوں گے۔






