سری نگر…..۲۲، اکتوبر…..جے کے این ایس….. جموں و کشمیر اسمبلی کا خزاں اجلاس طوفانی ہونے کی توقع ہے، اپوزیشن پارٹیاں کئی مسائل پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ جے کے این ایس کے مطابق 23اکتوبربروز جمعرات سے شروع ہونے والے اجلاس میں حکمرانی کے مسائل، نیشنل کانفرنس کی طرف سے اپنے انتخابی منشور، ریاست کا درجہ اور ریزرویشن میں کئے گئے وعدوں پر اپوزیشن کی طرف سے آتش بازی دیکھنے کی توقع ہے۔جے کے این ایس کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بی جے پی لیڈر اورقائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کہا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کرے گی، جسے اس نے’انتخابی وعدوں سے خیانت‘ قرار دیا ہے۔سنیل شرما نے کہاہے کہ حکومت انتخابات کے دوران کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، چاہے وہ200 مفت یونٹ بجلی، 12 ایل پی جی سلنڈر فی گھر، یا لوگوں کو دی گئی دیگر یقین دہانیاں ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیربی جے پی،عمرسرکار سے نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکامی پر سوال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن مہم میں حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے نوجوانوں کے لئے ایک لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ سنیل شرما نے کہاکہ ہم ان سے پوچھیں گے کہ انھوں نے پچھلے ایک سال میں نوجوانوں کے لیے کیا کیا ہے۔دوسری طرف، کشمیرنشین چھوٹی اپوزیشن پارٹیاں جیسے پی ڈی پی،پیپلزکانفرنس اور عوامی اتحادپارٹی کی جانب سے اسمبلی کے خزاں اجلاس میں ریاست کا درجہ، ریزرویشن کو منطقی بنانے، اور خطے کو درپیش دیگر مسائل پر شورشرابے اورحکومت کو کٹہرے میں کھڑاکئے جانے کا امکان ہے۔پی ڈی پی کے ایک لیڈراورممبراسمبلی نے کہاکہ انہوںنے دوسری علاقائی جماعتوں کیساتھ مشاورت کرکے اپنی حکمت عملی تیارکی ہے ،تاکہ ایوان میں حکومت کو جوابدہ بنایاجاسکے ۔انہوںنے مزید کہاکہ اب حکومت کاایک سال مکمل ہوگیاہے ،لیکن کسی سیاسی یا عوامی وعدے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے ۔جیسا کہ پہلے ہی اطلاع دی گئی ہے، اسمبلی سیکرٹریٹ نے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ممبراسمبلی ہندوارہ سجاد غنی لون کی جانب سے ریاست کی بحالی کے لئے پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔اس دوران معلوم ہواکہ جمعرات سے شروع ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے خزاں اجلاس میں بحث کا مرکز حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے3 سرکاری بل ہوں گے۔ کابینہ نے پہلے ہی جموں و کشمیر پنچایتی راج ایکٹ1989 اور گڈز اینڈ سروسز(GST) ٹیکس ایکٹ2017 میں ترمیم کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر شاپس اینڈ بزنس اسٹیبلشمنٹ بل2025 کو نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اسمبلی کےلئے450سوالات، 13 پرائیویٹ ممبرز بلز اور55 پرائیویٹ ممبرز کی قراردادیں قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ کو موصول ہوئی ہیں۔ 33 پرائیویٹ ممبرز بلز جو کہ اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں پیش کئے گئے تھے، ایوان میں زیر التوا ہیں اور انہیں28 اکتوبر کو کاروبار میں ترجیح دی جائے گی جو کہ پرائیویٹ اراکین کی قراردادوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔






