سرینگر/ 23اکتوبر /پی آئی بی / سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ علاقائی خصوصیات اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک مضبوط بایو اِنویشن ماحولیاتی نظام تیار کیا جائے، جس میں ریاستوں کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جائے۔زیر موصوف نے ڈیپارٹمنٹ آف بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں جاری منصوبوں اور نئی پہلوں کا جائزہ لیا گیا جو ہندوستان کے بایو اِنویشن منظرنامے کو وسعت دینے کے مقصد سے شروع کی گئی ہیں۔انہوں نے مختلف نئے منصوبوں کا جائزہ لیا ، جن میں بایو فاو¿نڈریز، علاقائی اِنویشن ہبز اور ریاستوں کی بایوٹیکنالوجی کی صلاحیت پر مبنی نقشہ بندی شامل ہیں تاکہ اختراع، اشتراکِ عمل اور مقامی شرکت کے ذریعے ملک کی بایو اکانومی کو مضبوط کیا جا سکے۔وزیرموصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی حکومتوں اور مقامی فریقوں کے ساتھ قریبی اشتراک کے ذریعے علاقائی طاقتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی بایوٹیکنالوجی نظاموں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔اکٹر جتیندر سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا بایوٹیکنالوجی کا شعبہ قومی ترقی کا ایک اہم ستون بن چکا ہے اور صحت، زراعت، ماحول اور صنعتی اختراعات کے ذریعے ملک کی معیشت میں نمایاں تعاون دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بایوٹیکنالوجی کو اقتصادی اور سماجی تبدیلی کے لیے ایک محرک بنایا جائے، جس کے لیے تحقیقاتی اداروں، اسٹارٹ اپس اور ریاستی حکومتوں کو ایک مشترکہ اِنویشن ماحولیاتی نظام کے تحت جوڑا جائے۔میٹنگ کے دوران، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ڈی بی ٹی کی جوائنٹ سیکریٹری محترمہ ایکتا وشوئی، آئی آر ایس کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے عالمی پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں سلور میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کیاہے۔ ان کی کامیابی کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ صرف ایک ذاتی سنگِ میل نہیں بلکہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قوت اور موجودگی کی بھی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کھیل نظم و ضبط، ثابت قدمی اور ٹیم ورک کی علامت ہیں ، یہ وہ خوبیاں ہیں جو ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو بھی آگے بڑھاتی ہیں۔ محترمہ وشوئی کا سفر اس حوصلے اور جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو نئے ہندوستان کی پہچان ہے۔ایک ایسا ہندوستان جو ہر شعبے میں بہترین کارکردگی کا خواہاں ہے، چاہے وہ تحقیق اور اختراع ہو یا کھیل اور عالمی قیادت۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید کہا کہ ڈی بی ٹی کا کام انسانی جسمانیات(فزیولوجی) میٹابولک تحقیق اور صحت کی ٹیکنالوجیز میں ہندوستان کے مستقبل کی پرفارمنس سائنس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ بایوٹیکنالوجی اور کھیل کس طرح مل کر ایک مضبوط اور صحت مند قوم بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔






