ڈل باشندگان ایک باوقار زندگی کے مستحق/الطاف بخاری
سرینگر/23دسمبر/ اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ وادی کی روایتی سیاسی جماعتوں نے دہائیوں سے جھیل ڈل کے باسیوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا، ”میر بحری اور گردنواح کے علاقوں میں رہنے والے ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو دہائیوں سے آمد و رفت کی رسائی، پینے کے لئے صاف پانی، بجلی سپلائی کے لئے درکار مناسب انفراسٹرکچر، معقول تعلیمی و طبی سہولیات اور روزگار کے مواقعے جیسے بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ دونوں روایتی سیاسی جماعتیں ڈل کے باشندگان کا استحصال کرتی آئی ہیں اور ا±نہیں جان بوجھ کر مصائب و مشکلات سے دوچار رکھا گیا ہے۔ متواتر حکومتیں اور متعلقہ اراکین اسمبلی ڈل باسیوں کے ساتھ کئے گئے بدترین امتیازی سلوک کو جواز بخشنے کےلئے طرح طرح کی حیلے اور بہانے تراشتے رہے۔“سید محمد الطاف بخاری میر بحری ڈل کے علاقے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ ا±ن کے ہمراہ پارٹی کے سینئر لیڈران بشمول میئر سرینگر اور پارٹی کی یوتھ ونگ کے صدر ج±نید عظیم متو، جو میر بحری کے بوڈ ڈل وارڈ کے منتخب کارپوریٹر بھی ہیں، بھی تھے۔سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ دونوں روایتی سیاسی جماعتوں نے ڈل کے باشندگان کو اپنے سیاسی مفادات کےلئے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”ان استحصالیوں نے آپ کے بچوں سے یکساں شہری حقوق چھین لئے لیکن مجھے فخر ہے کہ آپ کے چ±نے ہوئے نمائندے اور سرینگر کے میئر ج±نید متو نے یہاں کے انتظامی فقدان کے مسئلے سے نمٹنے کےلئے کئی عیاں اور بے مثال اقدامات کئے ہیں۔ آج کا یہ پ±رجوش جلسہ ا±ن کے تئیں آپ کی محبت اور ا±ن پر آپ کا غیر متزلزل اعتماد کا ثبوت ہے۔“سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ دونوں جماعتوں یعنی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ڈل باسیوں کو سوائے کھوکھلے وعدوں اور جھوٹ کے کچھ بھی نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آپ جھیل ڈل کی بقا کےلئے لازمی ماحولیاتی نظام کے محافظین ہیں اور آپ کے بغیر جھیل ڈل نامکمل ہے۔ آپ انسانی آبادی کا وہ قابل قدر حصہ ہیں، جس نے جھیل ڈل کو د±نیا کے ایک سب سے بڑے اور منفرد ماحولیاتی نظام کی حیثیت سے زندہ رکھا ہوا ہے۔ آپ نہ صرف جھیل ڈل کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ آپ نے اس جھیل کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے کبھی بھی یہاں کے علاقوں کی طرف سیاحوں کو راغب کرنے اور روزگار کے مواقعہ پیدا کرنے کےلئے ان علاقوں کو سیاحتی دیہات میں تبدیل کرنے اور ماڈل ایریاز بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔“سرینگر کے میئر اور اپنی پارٹی کی یوتھ ونگ کے صدر، جو بوڈ ڈل کے منتخب نمائیندے بھی ہیں، نے عوامی اجتماع سے اپنے خطاب میں کہا کہ ا±نہوں نے ڈل باسیوں کی زندگیاں بہتر بنانا اور ا±ن کی تقدیر بدلنا اپنا ایک مشن بنایا ہے تاکہ وہ یہاں کے لوگوں کی زندگیوں کو تاریکی اور نا ا±میدی سے باہر نکال سکیں اور ا±نہیں ایک روشن مستقبل اور ایک باوقار زندگی فراہم کراسکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ا±ن کا اعزاز ہے کہ وہ ڈل باسیوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔ ا±نہوں نے یقین دلایا کہ وہ یہاں کے لوگوں کو بنیادی انفراسٹکچر اور سہولیات بہم پہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا، ”جب آپ نے چار سال قبل مجھے منتخب کیا تو میں نے ا±س وقت آپ کے ساتھ وعدہ کیا کہ میں انتظامیہ کی ا±س ذہنیت کو تبدیل کروں گا، جس کی وجہ سے آپ کے ساتھ دہائیوں سے امتیازی سلوک ہورہا ہے اور آپ کو بنیادی انسانی حقوق تک سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔“انہوں نے مزید کہا، ” اگرچہ ابھی تک کئی اہداف حاصل کرنا باقی ہیں لیکن مجھے یہ کہنے میں فخر محسوس ہورہا ہے کہ ہم نے اس مختصر مدت میںہی وہ کچھ کیا ہے، جو متواتر وزرا اعلیٰ، حکومتیں اور حضرتبل حلقے کے اراکین اسمبلی اپنے وعدوں کے باوجود کرنے میں ناکام ہوچکے تھے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تعمیر و ترقی کا یہ سفر تب تک جاری رکھا جائے گا جب تک ڈل باسیوں کو حقوق اور وقار کے حوالے سے سرینگر کے باقی باشندگان کے ہم پلہ نہیں لایا جاتا۔“میر بحری کے باشندگان کو فریب دینے اور جھوٹ بولنے پر نیشنل کانفرنس اور پیپلز کانفرنس کو لتاڑتے ہوئے جنید متو نے کہا، ”یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ جڈی بل کے ایک سابق ر±کنِ اسمبلی اور نیشنل کانفرنس کے ایک نوجوان لیڈر گزشتہ ایک ہفتے سے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ دعویٰ کررہا ہے کہ کامران شاہ- مہدی روڈ پر تین پ±لوں کی تعمیر کی فنڈنگ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پارلیمانی لوکل ائریا ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت فراہم کی گئی ہے، جبکہ دوسرا یعنی سابق ر±کنِ اسمبلی یہ کہہ رہا ہے کہ مذکورہ پ±لوں کی تعمیر اس لئے ممکن ہوپائی ہے کیونکہ وہ اس ضمن میں جناب لیفٹنٹ گورنر سے ملے۔ کیا ان لوگوں کو کوئی شرم نہیں؟ اور کیا انہیں اس بات کا بھی ڈر نہیں ہے کہ حقِ اطلاعات کے تحت ایک سادہ درخواست دیئے جانے سے اور دفتری کاغذات پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے ان کے جھوٹ سے پردہ سرک جائے گا؟ ان پلوں کی تعمیر کی منظوری سرینگر میونسپل کارپوریشن کی کیپکس گرانٹ کے ذریعے دی گئی، جبکہ فنڈس لگ بھگ ایک سال قبل میری سربراہی میں میونسپل کارپوریشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے الاٹ کئے ہیں۔میں اکیلا ہی لیکس کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کی اجازت کےلئے کئی ماہ سے ایک قانونی جنگ لڑ رہا ہوں۔ اس بات کو عدالتی دستاویزات ثابت کرسکتے ہیں۔ میں یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کررہا تھا، جب مذکورہ دونوں افراد پ±لوں کی تعمیر میں آنے والے مشکلات سے لاعلم اور غافل تھے۔انہوں نے مزید کہا، “لیکن ان کا جھوٹ س±ن کر میں حیران نہیں ہوں کیونکہ پیپلز کانفرنس لیڈر اور سابق ر±کنِ اسمبلی جڈی بل نے اپنی سیاسی خود غرضی کی خاطر گزشتہ سال شہید آغا سید مہدی روڈ کی میگڈمائزیشن کے عمل میں بھی روڈے اٹکائے اور سینئر متلعقہ افسران کے ساتھ انتہائی نا شائستہ سلوک کیا اور ا±نہیں یہ کہہ کر اس سڑک کی تعمیر کی اجازت نہ دینے پر زور دیا کہ برعکس صورت میں ا±نہیں قانونی نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ اگر وہ قران پر ہاتھ رکھ کر اس بات کو جھٹلائیں گے تو میں ثبوتوں کے ساتھ اس ضمن میں ساری تفصیلات منظر عام پر لاوں گا۔ ا±سے اس طرح کا ک±ھلا جھوٹ بولنا زیب نہیں دیتا ہے۔ جہاں تک تنویر صادق کا تعلق ہے، ا±نہوں نے کہا ہے کہ فنڈس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پارلیمانی لوکل ائریا ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت فراہم کئے گئے ہیں لیکن ا±س کے لئے یہ ب±ری خبر ہے کہ پارلیمانی لوکل ائریا ڈیولپمنٹ سکیم کے اخراجات کی جانچ پڑتال کے لئے ان کی تفصیلات تک عوام کو کھلی رسائی حاصل ہے۔ ا±ن کے جھوٹ اس حد تک عیاں ہیں کہ ا±نہیں بے نقاب کرنے کےلئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔”ج±نید متو نے کہا کہ جڈی بل حلقہ انتخاب بدلاو کے لئے بے قرار ہے اور وہ اس حلقے کی خدمت ایمانداری، مستقل مزاجی، اور شفافیت کے ساتھ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں جڈی بل حلقے میں دونوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز کانفرنس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔عوامی جلسے سے سابق کابینہ وزیر اور اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر، سابق وزیر اور پارٹی کے صوبائی صدر محمد اشرف میر، سابق ر±کنِ اسمبلی اور اپنی پارٹی کے ضلع صدر سرینگر نور محمد شیخ اور اپنی پارٹی کے سٹیٹ سیکرٹری منتظر محی الدین کے علاوہ جڈی بل حلقے سے تعلق رکھنے والے کئی سینئر پارٹی لیڈران اور کارکنان نے بھی خطاب کیا۔






