جموں…..انفو….وزیر برائے صحت و طبی تعلیم ، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے صحت شعبے کے لئے ویژن 2030 جو جے اینڈ کے ویژن دستاویز@ 2047 سے ہم آہنگ ہے، کے تحت سول سیکرٹریٹ میں ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی تاکہ جموں و کشمیر میں عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے محکمہ صحت کے ایکشن پلان کا جائزہ لیا جا سکے۔میٹنگ میں سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹر سیّد عابد رشید شاہ، ایم ڈِی این ایچ ایم بصیر الحق چودھری، سی اِی او سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی اننت دویدی، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایم ایس سی ایل طارق حسین گنائی،کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سمیتا سیٹھی، ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر اشرف گنائی، ڈائریکٹر فائنانس ہیلتھ، ڈائریکٹر پلاننگ ہیلتھ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ،جموں، ڈائریکٹر کوآرڈی نیشن نیوجی ایم سی، ڈائریکٹر فیملی ویلفیئر و امیونائزیشن، تمام میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں اور دیگر متعلقہ اَفسران نے ذاتی طور پر یا بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے اہم ترجیحی شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا جن میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن، بنیادی اور ثانوی ہیلتھ کیئر خدمات کو مضبوط بنانا، اِنسانی وسائل کا مو¿ثر اِستعمال، جدید طبی ٹیکنالوجی کو اَپنانے اور ضروری اَدویات و تشخیصی سہولیات کی دستیابی میں بہتری شامل ہے۔ اُنہوں نے بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں میں صحت خدمات کی ترسیل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔اُنہوںنے اَفسران پر زور دیا کہ ویژن 2030 کے حصول کے لئے ایکشن پلان نہایت باریکی سے تیار کیا جائے تاکہ وزیراعلیٰ کے سب کے لئے قابلِ رسائی، سستی اور معیاری صحت سہولیات کے ویژن کو عملی شکل دی جا سکے۔ اُنہوں نے کہا،”جاری اَقدامات پر بروقت عمل درآمد، وسائل کا مو¿ثر اِستعمال اور عوام مرکوز ِطرزِ عمل ویژن 2030 کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔“سکینہ اِیتو نے بین محکمہ جاتی تال میل اور مسلسل نگرانی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ اِختراعی حل اپنائیں، ڈیجیٹل ہیلتھ اَقدامات سے فائدہ اُٹھائیں اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ مریضوں کے نتائج بہتر ہوں۔اُنہوں نے جموں و کشمیر بھر میں صحت شعبے کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے صحت مراکز کے لئے معیاری آلات کی خریداری پر زور دیا جو عوام کی فوری ضروریات کو پورا کریں۔ اُنہوں نے ٹینڈر کے طریقہ¿ کار میں شفافیت اور خریدے گئے آلات کی بروقت تنصیب پر بھی زور دیا۔وزیر صحت نے اَفسران کو ہسپتالوں میں نئے خریدے گئے ایمبولینس فلیٹ کی فوری تعیناتی کی ہدایت دِی اور کہاکہ ایمبولینس صحت خدمات کی بہتری کے لئے ایک بنیادی ضرورت ہیں۔اُنہوں نے دیہی اور دُور دراز علاقوں میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے محکمہ کو ایک مراعاتی سکیم بنانے پر زور دیا تاکہ اِن علاقوں میں تعینات عملے کو اضافی مراعات مل سکیں۔ اُنہوں نے سیکرٹری صحت و طبی تعلیم کو این ایچ ایم ڈاکٹروں اور عملے کی رَیشنلائزیشن کرنے، عملے کی کمی والے مقامات پر پوسٹنگ کرنے اور تمام این ایچ ایم ڈاکٹروں کی اٹیچ منٹوں کومنسوخ کر کے انہیں ان کی اصل تعیناتیوں پر بھیجنے کی ہدایت دی۔سکینہ اِیتو نے سی اِی او سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی کو ہدایت دی کہ صحت سکیم کے تحت ہونے والی دھوکہ دہی کی بروقت نشاندہی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے اینٹی فراڈ یونٹ کو مضبوط کیا جائے اور ڈاکٹروں و نجی ہسپتالوں کے گٹھ جوڑ کو ختم کیا جائے جو مریضوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔اُنہوں نے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کمشنر کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر میں لائے جانے والے غذائی اور کھانے پینے کی اشیا¿ کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ اُنہوں نے بلاک، تحصیل اور ضلع سطح پر مارکیٹ چیکنگ سکارڈز کو مضبوط بنانے پر زور دیا تاکہ غذائی معیار برقرار رکھا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے کمشنر کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات کی مو¿ثر پیروی اور قانون کے مطابق کارروائی کی بھی ہدایت دی۔اُنہوں نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے قابلِ رَسائی اور سستی صحت سہولیات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت ایک مضبوط، جامع اور جوابدہ صحت نظام کی تعمیر پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے جو آبادی کی بدلتی ضروریات کو پورا کرے اوریونیورسل ہیلتھ کوریج کے وعدے کو برقرار رکھے۔دورانِ میٹنگ ڈائریکٹر پلاننگ ہیلتھ نے ویژن 2030 کے مقاصد کے حصول کے لئے ایکشن پلان پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔






