جموں…..انفو…. پرنسپل سیکرٹری خزانہ سنتوش دی ویدیا نے سول سیکرٹریٹ میں کرایہ نظرثانی کمیٹی (ایف آر سی) کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میںجموںوکشمیر یوٹی میں مسافر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں نظرثانی کے معاملے پر غور و خوض کیا گیا۔میٹنگ میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اونی لواسا، قائم مقام ٹرانسپورٹ کمشنر جموں و کشمیر انجوگپتا، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے آر ٹی سی عبدالرشید وار، ہیڈکوارٹر ناردرن کمانڈ کے نمائندے (سی/او 56 اے پی او)، ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر کشمیر، ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر جموں، ایڈیشنل سیکرٹری جی اے ڈی، کمیٹی کے اراکین اور جموں و کشمیر کے مختلف ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشنوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ ٹرانسپورٹروں کے نمائندوں نے آپریشنل اَخراجات میںخاطر خواہ اِضافے کا حوالہ دیتے ہوئے مسافر وں کے کرایوں میں 40 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی۔کمیٹی نے اِس معاملے پر تفصیلی اور جامع بحث و تمحیص کی جس میں سپیئر پارٹس کی قیمتوں میں تیز ی سے اِضافہ، ایندھن سے متعلق اَخراجات، ٹیکسز،مینی ٹیننس کے اَخراجات اور دیگر آپریشنل عوامل کو مدنظر رکھا گیا۔ غور و خوض کے دوران ایک جامع لاگت تجزیہ بھی پیش کیا گیا۔کمیٹی نے ٹرانسپورٹروں کی طرف سے اُٹھائے گئے حقیقی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے، عام لوگوںپر کرایے میں اضافے کے سماجی اور اِقتصادی اثرات پر بھی غور کیا بالخصوص یہ یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ عام آدمی پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔تمام شراکت داروں کے مابین تفصیلی غور و خوض اور اتفاقِ رائے کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ جموںوکشمیر یوٹی میں چلنے والی تمام اقسام کی مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں 18 فیصد اِضافہ کیا جائے گا اور نظرثانی شدہ کرایوں کا اطلاق یکم جنوری 2026 ءسے ہوگا۔اِس فیصلے کا مقصد ٹرانسپورٹ شعبے کی دیرپائی کو یقینی بناتے ہوئے مسافروں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے اور یہ ایک متوازن حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔






