پی آئی بی سرینگر نے بانڈی پورہ میں میڈیا ورکشاپ ’وارتلاپ‘ کا انعقاد کیا
سرینگر، 25 مئی، / حکومت اور صوبہ¿ کشمیر میں ضلع اور ذیلی ضلع سطح پر کام کرنے والے صحافیوں کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے، پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی)، سرینگر، وزارت اطلاعات و نشریات، حکومت ہند نے آج بانڈی پورہ ضلع میں میڈیا ورکشاپ ”وارتلاپ“ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ کے مہمان خصوصی ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد تھے اور اعزازی مہمان ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی آئی بی سرینگر اور چندی گڑھ ایس راجندر چودھری تھے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اویس احمد نے بانڈی پورہ میں ورکشاپ کے انعقاد پر پی آئی بی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی انتظامیہ کی آنکھ اور کان بن کر معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی آمد ایک نعمت اور نقصان دونوں ہے کیونکہ بعض اوقات غلط معلومات بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور صحافی اس حوالے سے چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ڈاکٹر اویس احمد نے انتظامیہ کو فیڈ بیک فراہم کرنے کے لئے میڈیا کی حوصلہ افزائی کی تاکہ اس سے بہتر طرز حکمرانی میں مدد ملے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے پاس بہت زیادہ طاقت ہے اور میڈیا سے وابستہ افراد کو چاہیے کہ وہ اس طاقت کا دانشمندانہ اور منصفانہ استعمال کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ طاقت کا غلط استعمال نہ ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان تعلق ایماندارانہ ہونا چاہیے کیونکہ اس کا فائدہ بالآخر عوام کو ہی ملتا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی آئی بی سرینگر اور چندی گڑھ جناب راجندر چودھری نے ورکشاپ کے انعقاد میں تعاون کے لیے ضلع انتظامیہ بانڈی پورہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ورتالاپ ایک دو طرفہ مواصلات ہے اور ورکشاپ کا مقصد دور دراز مقامات پر میڈیا تک پہنچنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کی کوششوں سے حکومت کے کام میں بہت آسانی ہوتی ہے کیونکہ یہ حکومت کی آنکھ اور کان کی طرح کام کرتا ہے۔ جناب چودھری نے وزارت اطلاعات و نشریات اور اس کے تحت آنے والے مختلف میڈیا یونٹس کے ڈھانچے اور کام کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ میڈیا یونٹس کی فراہم کردہ معلومات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں کیونکہ اس سے انہیں مکمل تصویر دیکھنے میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پی آئی بی مقامی اور علاقائی سطح پر رپورٹ ہونے والی خبروں کا بھی نوٹس لیتا ہے اور شکایات کے ازالے کے لیے اسے اعلیٰ حکام تک پہنچاتا ہے۔ اپنے خطبہ استقبالیہ میں پی آئی بی سرینگر کے جوائنٹ ڈائریکٹر (میڈیا اینڈ کمیونیکیشن) قاضی سلمان نے ورکشاپ میں حاضری پر صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔ پی آئی بی کے کردار اور ذمہ داری کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں میڈیا میں زبردست تبدیلی آئی ہے جبکہ خبروں کے استعمال کے انداز میں بھی ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کی وجہ سے خبروں کی زیادہ کھپت ہوئی ہے اور اس سے مقامی صحافیوں کا کردار زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورتالاپ کا مقصد مقامی صحافیوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ میڈیا اور سرکار کے درمیان ایک صحت مند کام کرنے کا رشتہ قائم ہو سکے۔ جناب محمد مظفر شاہ، اسسٹنٹ کمشنر پنچایت، بانڈی پورہ نے دیہی ترقی محکمہ بانڈی پورہ کی کامیابیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں سوچھ بھارت مشن کو بڑی کامیابی ملی ہے اور یہ انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ڈی آئی سی بانڈی پورہ کے پروجیکٹ منیجر ڈاکٹر معراج وانی نے بانڈی پورہ میں پی ایم جے اے وائی (گولڈن کارڈ) پر خصوصی توجہ کے ساتھ صحت کے شعبے کی کامیابیوں کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چار ہسپتال ہیں جو دن رات کام کر رہے ہیں اور پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھی آیوشمان بھارت کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گولڈن کارڈ نے شہریوں کے لیے نجات دہندہ کے طور پر کام کیا ہے اور اس حوالے سے کامیابی کی کچھ کہانیاں بھی شیئر کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گولڈن کارڈ اسکیم کے تحت صرف 8 فیصد آبادی کا احاطہ کرنا باقی ہے۔ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر بانڈی پورہ جناب جہانگیر احمد اخون نے کہا کہ میڈیا تبدیلی کے ایک متحرک ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور یہ عوام کے مسائل کو سامنے لا کر ایک قابل ستائش کام کر رہا ہے۔ انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ بانڈی پورہ کا میڈیا برادری عوام کی شکایات کو دور کرنے میں انتظامیہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کر رہی ہے۔ ڈاکٹر غلام محمد پاجو، پرنسپل ہائیر سیکنڈری اسکول شادی پورہ اور ڈاکٹر علی محمد نشتر، پرنسپل ہائیر سیکنڈری اسکول شاہ گنڈ نے بانڈی پورہ میں نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے نفاذ کے بارے میں مشترکہ طور پر بات کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ضلع میں ہر بچے کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے اور این ای پی کے متعارف ہونے کے بعد سے سکولوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔ جناب شعیب خان، اسٹیٹ کوآرڈینیٹر یو آئی ڈی اے آئی، جموں وکشمیرنے آدھار سے متعلق مسائل اور موجودہ دور میں آدھار کارڈ کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی 90 فیصد آبادی کے پاس آدھار کارڈ ہیں اور باقی آبادی تک رسائی کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانڈی پورہ ضلع میں فی الحال 45 آدھار مراکز کام کر رہے ہیں۔ اپنے اختتامی کلمات میں، چودھری نے کہا کہ صحافیوں کو اپنے حقیقی مطالبات کے ساتھ آگے آنا چاہیے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے حکومت سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ ورکشاپ کے نظامت کے فرائض ڈپٹی ڈائریکٹر (میڈیا اینڈ کمیونیکیشن) پی آئی بی سرینگر طارق احمد راتھر نے انجام دئے۔ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن آفیسر، پی آئی بی سرینگر جناب ماجد پنڈت نے تحریک شکرانہ پیش کیا۔ تکنیکی سیشن کے بعد انٹرایکٹو سوال جواب کے سیشن ہوئے جس دوران صحافیوں نے ماہرین سے بات کی اور مختلف اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں اپنے شکوک و






