سرینگر/26اپریل / اپنی پارٹی کے قائد سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ جب ا±ن کی جماعت بر سر اقتدار آئے گی تو ا±ن علاقائی جماعتوں اور ان کے رہنماو¿ں سے حساب مانگا جائے گا جو جموں کشمیر میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی کی سرکار ان بے رحم سیاسی لیڈروں کو ا±ن کے کیفر کردار تک پہنچائے گی۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج بٹہ مالو حلقہ انتخاب کے مجہ گنڈ علاقے میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ عوامی جلسہ پارٹی کی جانب سے جاری الیکشن مہم کا ایک حصہ تھا۔ برستی بارش کے باوجود جلسہ گاہ میں لوگوں، بشمول مرد و زن، کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ لوگوں نے سید محمد الطاف بخاری اور ان کے ساتھیوں کے جلسہ گاہ میں پہنچنے پر ا±ن کا پ±رجوش استقبال کیا اور ا±ن کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سرینگر حلقہ کے لئے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کے ا±میدوار محمد اشرف میر کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں۔انہوں نے کہا، ”میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی پارٹی کی حمایت کریں اور اشرف صاحب کی جیت کو یقینی بنائیں تاکہ وہ پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے جذبات کی صحیح معنوں میں نمائندگی کر سکیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اپنی پارٹی آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماو¿ں کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے عہد کیا کہ ” جب اپنی پارٹی اقتدار میں آئے گی، تو وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جعلی مقابلوں میں ملوث جماعتوں اور رہنماو¿ں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچادیا جائے۔“ اپنی پارٹی کے سربراہ مرکزی وزیر داخلہ کے حالیہ انکشافات کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ ماضی میں فرضی انکاو¿نٹر میں لوگوں کو مروانے میں این سی، پی ڈی پی اور کانگریس ملوث رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ”ملک کے وزیر داخلہ نے انکشاف کیا ہے کہ یہ جماعتیں ماضی میں فرضی مقابلوں میں ہلاکتوں کی ذمہ دار رہی ہیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر اپنی پارٹی کو عوامی مینڈیٹ ملا تو وہ انصاف کو یقینی بنائے گی۔ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔ ہم حقائق سے پردہ اٹھائیں گے اور اس طرح کے بھیانک جرائم میں ملوث افراد کا احتساب کریں گے۔“سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کے لیے ایک واضح وڑن رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جموں و کشمیر کو خوشحالی اور ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے خواہش اور صلاحیت دونوں موجود ہیں۔ اپنی پارٹی جموں و کشمیر کے لوگوں کو سیاسی اور معاشی بااختیار بنانے کو یقینی بنائے گی۔ ہم جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کریں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے قید نوجوان اپنے گھر والوں کے پاس واپس آئیں۔ ہم اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہاں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری توجہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے امن، خوشحالی اور فلاح و بہبود پر مرکوز رہے گی۔اس موقع پر پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے اپنی پارٹی کے جلسوں میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا، ”جس طرح سے لوگ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہماری ریلیوں اور کنونشنوں میں شرکت کرتے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے واضح اور غیر مبہم پیغامات لوگوں تک پہنچے ہیں اور ان کے دلوں کو چھو لیا ہے۔ ناخوشگوار موسم کے باوجود یہاں اتنے بڑے اجتماع کو دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے۔“اپنی پارٹی کے ایجنڈے اور پالیسیوں کا اعادہ کرتے ہوئے، غلام حسن میر نے کہا، ”یہ پارٹی مارچ 2020 میں قائم کی گئی تھی، یعنی ایک ایسے وقت میں جب جموں و کشمیر کے لوگ آرٹیکل 370 کی منسوخی کی وجہ سے شدید پریشانی میں تھے۔ اس وقت، لوگ خوفزدہ تھے اور ا±نہیں یہ خدشہ لاحق تھا کہ جموں و کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جائے گی اور اس کے نتیجے میں یہاں کے لوگ اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے اور ساتھ ہی یہاں ملازمتوں اور زمین کے خصوصی حقوق سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ بدقسمتی سے، روایتی سیاستدان جو گزشتہ 70 سالوں سے اقتدار میں رہے ہیں، نے اس آزمائش کی گھڑی میں عوام کا ساتھ چھوڑ دیا۔ لیکن ہم نے آگے بڑھنے اور اپنے لوگوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے یہ پارٹی قائم کی اور وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر لیڈروں سے ملاقات کے لیے نئی دہلی گئے۔ ہم نے نئی دلی میں ارباب اقتدار کو قائل کیا کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہاں ملازمتوں اور زمینوں پر خصوصی حقوق برقرار رکھیں۔“انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی یکساں طور پر آرٹیکل 370 کے خلاف رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”کانگریس نے کئی دہائیوں کے دوارن آرٹیکل 370 کو مکمل طور پر کھوکھلا کیا تھا جبکہ بی جے پی نے اسے ایک جھٹکے میں اور ہمیشہ کے لیے ختم کیا۔ جب آرٹیکل 370 کی بات آتی ہے تو دونوں جماعتیں ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔“میر نے یقین دلایا کہ اپنی پارٹی جموں و کشمیر کو سیاسی اور اقتصادی بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ یہاں کے نوجوانوں کے لیے باوقار زندگی کو یقینی بنائے گی۔ سید محمد الطاف بخاری اور غلام حسن میر کے علاوہ پارٹی کے جو سرکردہ لیڈران اس موقع پر موجود تھے، ان میں صوبائی صدر کشمیر اور سرینگر حلقہ سے پارلیمانی انتخابات کے لئے پارٹی کے امیدوار محمد اشرف میر، ریاستی سیکرٹری اور ترجمانِ اعلیٰ منتظر محی الدین، ضلع صدر سرینگر نور محمد شیخ، صوبائی کوآرڈی نیٹر جاوید احمد میر، صوبائی سیکرٹری نجیب نقوی، ضلع سرینگر کے سینئر نائب صدر اور حلقہ حبہ کدل کے پارٹی انچارج جیلانی حمید کمار، ضلع یوتھ صدر اور خانیار حلقہ کے انچارج محسن ظفر شاہ، ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیٹر سرینگر تنبیر سنگھ سوڈھی، ضلع سکریٹری سرینگر پیر وجاہت، پارٹی ہیڈ کوارٹر میں صدر کے دفتر کے انچارج توصیف بشیر، ایڈوکیٹ محسن، ماسٹر کلدیپ سنگھ، وسیم ڈار، ظفر حبیب، عرفان زرگر، علی محمد میر، شہزاد بٹ، مدثر احمد، اور دیگر لیڈران شامل تھے۔






