جموں…انفو… وزیر برائے خوراک، شہری رسد ات واَمورصارفین، ٹرانسپورٹ، اَمورِ نوجوان و کھیل کود اور اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ستیش شرما نے کہا کہ بھاشینی(بی ایچ اے ایس ایچ آئی این آئی) رجیم ورکشاپ جموں و کشمیر میں ایک جامع اور عوام دوست ڈیجیٹل نظام کی تعمیر کی طرف ایک اہم قدم ہے۔وزیر موصوف آج کنونشن سینٹر جموں میں محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طرف سے ڈیجیٹل اِنڈیا بھاشینی ڈویژن، وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم اِی آئی ٹی وائی) کے اشتراک سے منعقدہ بھاشینی رجیم ورکشاپ (جموں و کشمیرچپٹر) سے خطاب کر رہے تھے۔اُنہوں نے ڈیجیٹل حکمرانی میں لسانی شمولیت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کو ہر شہری کو لسان، تعلیم کی سطح یا جغرافیائی مقام سے قطع نظر بااختیار بنانا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھاشینی ڈیجیٹل اِنڈیا کی حقیقی روح کی عکاسی کرتا ہے کیوں کہ یہ حکمرانی، تعلیم، سٹارٹ اپس اور کاروباری شعبے میں اے آئی پر مبنی کثیر لسانی حل فراہم کرتا ہے۔وزیرخوراک نے کہا،”جموں و کشمیر کے لئے یہ باعثِ فخر ہے کہ وہ بھاشینی راجیم ورکشاپ کی میزبانی کر رہا ہے ۔ یہ ایک دور اندیش اقدام ہے جو تکنیکی تبدیلی کے مرکز میں شمولیت کو رکھتا ہے۔“اُنہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی دُور اندیش قیادت میں حکومت جموں و کشمیر اس بات کے لئے پُرعزم ہے کہ ڈیجیٹل خدمات قابلِ رسائی، جامع اور شہریوں پر مرکوز رہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ بھاشینی کو اپنانے سے نہ صرف خدمات کی فراہمی میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی ڈیولپروں، محققین اور ہندوستانی زبانوں کی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے سٹارٹ اپس کے لئے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔وزیر موصوف نے محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انڈیا بھاشینی ٹیم کو ورکشاپ کے اِنعقاد پر مُبار ک باد دِی اور یقین ظاہر کیا کہ یہ اقدام جموںوکشمیر خطے میں کثیر لسانی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرے گا۔اُنہوں نے کہا،”آئیے ہم سب مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ زبان کبھی رُکاوٹ نہ بنے بلکہ مواقع اور بااِختیاری کا ذریعہ بنے۔“ستیش شرما نے بھاشینی مشن کے لئے جموں و کشمیر حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دِلایا جس میں جدید استعمال کے کیسوں کی جانچ کرنا، لسانی ڈیٹا سیٹس کا اِشتراک کرنا اور مختلف محکموں میں کثیر لسانی ڈیجیٹل حکمرانی کو فروغ دینا شامل ہے۔اِس موقعہ پر سیکرٹری محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی پیوش سنگلا نے بھی خطاب کیا اور روزمرہ حکمرانی میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شفافیت، کارکردگی اور شہری شمولیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر بھاشینی رجیم امیتابھ گرگ نے تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی اور بھاشینی پروگرام اس کے ڈھانچے، اہم اجزا¿ اور عملی استعمال کے معاملات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا۔ اُنہوں نے حکمرانی، تعلیم، عوامی خدمات اور کاروباری شعبے میں کثیر لسانی اے آئی ٹولز کے اِستعمال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان کے فرق کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اِس موقعہ پر چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے اے کے اِی جی اے مہیمامدن بھی موجود تھیں۔ورکشاپ کے دوران بھاشینی ادیات، اے آر پی اے این سروسز اور نیشنل ہب فار لنگویج ٹیکنالوجی (این ایچ ایل ٹی) پر تکنیکی سیشن منعقد کئے گئے جن میں ترجمہ، ٹرانسکرپشن، سپیچ ٹو ٹیکسٹ، ویڈیو ترجمہ اور لنگویج ماڈل اے پی آئی کے براہِ راست مظاہرے شامل تھے۔ سیشنوں میں بھاشینی سے چلنے والی ایپلی کیشنز، بین الوزارتی استعمالی کیسز، سٹارٹ اپس کی شمولیت کے اقدامات اور نوجوانوں میں اِختراع کو فروغ دینے کے لئے آئندہ ہیکاتھون کو بھی پیش کیا گیا۔اِس تقریب میں جموں و کشمیر بھر سے سینئر سرکاری افسران، ٹیکنالوجی ماہرین، ڈیولپروں، سٹارٹ اپس، ماہرینِ تعلیم اور طلبا¿ نے شرکت کی۔






