سرینگر//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں کشمیر سے باہر امرناتھ یاترا کو کسی خلافِ معمول یا غیر معمولی معاملے کے بطور پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔اس بات کا اظہار انہوں نے آج لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو مدعو کیا گیا تھا، میں کہی ہے۔سید الطاف بخاری نے کہا، ’’کشمیر دُنیا کے چند ہی مخصوص خطوں میں شامل ہے، جسے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مشترکہ تہذیبی اور تمدنی میراث کی وجہ سے ایک شہرت حاصل ہے۔
یہاں کے لوگ مشکل حالات کے باوجود اس مشترکہ تمدنی ورثے کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگ مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں اور مخلصانہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ رہن سہن کی تاریخ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’امرناتھ یاترا تاریخی اہمیت کی حامل یاترا ہے، جس کا تعلق یہاں کی فرقہ ورانہ ہم آہنگی سے ہے۔ یہ یاترا عوام کے مشترکہ میراث کا حصہ ہے۔‘‘بخاری نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں نے ہمیشہ یہ یاترا کامیاب بنانے کےلئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس یاترا کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال اور مشترکہ کلچر اور مذہبی تاریخ کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’کشمیری مسلمان مزدور اور ہیلپر ہمیشہ مقدس گھپا تک جانے والے دشوار گذار راستوں پر یاتریوں کی مدد کرتے آئے ہیں۔‘‘سید الطاف بخاری نے حکومت سے کہا ہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا کو جموں کشمیر سے باہر اس طرح سے پیش نہیں کیا جانا چاہیے کہ جیسے یہ کوئی خلافِ معمول یا کوئی غیر معمولی مذہبی معاملے ہو یا جیسے کہ یہ یاترا یہاں پہلی بار منعقد ہورہی ہو۔انہوں نے کہا، ’’اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ یاترا کے لئے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے جانے ناگزیر ہیں۔
یاترا کو خوشگوار طریقے سے انجام دینے کےلئے تمام ممکنہ انتظامی اقدامات کئے جانے چاہیئں، لیکن یہ سارے اقدامات کچھ اس انداز سے نہیں کئے جانے چاہیں، کہ اس کے نتیجے میں دو مختلف فرقوں کے درمیان کوئی خلیج پیدا ہوجانے کا احتمال ہو۔‘‘اُنہوں نے حکومت سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ متعلقہ پہاڑی سلسلے کے اندر ماحولیات کو تحفظ دینے کے اقدامات کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یاتریوں کے لئے انفراسٹکچر قائم کرنے اور دیگر مطلوبہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے ملک بھر کے ماہرین ماحولیات کے خدشات کا ازالہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
‘‘سید الطاف بخاری نے میٹنگ کے دوران مزید کہا امرناتھ یاترا بنیادی طور پر ایک مقدس مذہبی عمل ہے لیکن اس کے ساتھ مقامی لوگوں کے معاشی فوائد بھی جڑے ہیں، جن سے اُنہیں محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’کشمیر کا اکثریتی طبقہ یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ امرناتھ یاترا کے ساتھ اُن کے تجارتی فوائد بھی جڑے ہیں۔ گھپا تک جانے والے راستوں پر مقامی لوگوں کی نقل و حرکت پر کسی قسم کی قدغن لگا کر اُنہیں یہ تجارتی فوائد حاصل کرنے سے محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔‘‘





