سری نگر….انفو…وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے مینڈھر اور رفیع آباد اسمبلی حلقوں میں ترقیاتی کاموں، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور فلاحی اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ایک جامع جائزہ میٹنگ منعقد کی۔میٹنگ میں کابینہ وزرا¿جاوید احمد رانا اور جاوید احمد ڈار کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعلیٰ تعلیم شانت منو، سیکرٹری صحت و طبی تعلیم ڈاکٹرسیّد عابد رشید شاہ، ڈائریکٹر سکو لی تعلیم جموں، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر،ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں اور متعلقہ محکموں کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔سکینہ اِیتو نے جائزہ کے دوران صحت ، تعلیم اور سماجی بہبود کی سکیموں کی عمل آوری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دونوں حلقوں میں جاری منصوبوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے متعلقہ اَفسران پر زور دیاکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں تاخیر پیدا کرنے والے تمام مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔وزیر موصوفہ نے سرحدی اور دیہی حلقوں کے لئے حکومت کی ذِمہ داری کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مینڈھر اور رفیع آباد کو ترقی کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔اُنہوں نے کہا، ”ہماری ترجیح یہ ہے کہ صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات ہر گھر تک پہنچیں تاکہ دُور دراز اور سرحدی علاقوں کے لئے عوامی خدمات تک مساوی رَسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔سکینہ اِیتو نے مزید کہا کہ ہماری حکومت رسائی، شمولیت اور شفافیت کے وعدے پر قائم ہے اور آج کی یہ جائزہ میٹنگ فوری اِصلاحی اَقدامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے معاون ثابت ہوگی۔اِس سے قبل وزیر جاوید رانا نے مینڈھر میں سکولی تعلیم کے مسائل کو اُٹھاتے ہوئے سرحدی علاقوں میں سکولوں میں عملے کی شدید کمی کو اُجاگر کیا اور عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے فوری اقدامات پر زور دیا۔اُنہوں نے ماڈل سکول پٹھانتر، گرلز ہوسٹل بالا کوٹ و مینڈھر اور دیگر طویل عرصے سے زیر تعمیر عمارات کی تکمیل کو تیز کرنے پر زور دیا۔دورانِ میٹنگ جاوید رانا نے حلقے کے کئی سکولوں میں سائنسی مضامین کی غیر موجودگی کے مسئلے کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے ان اِداروں میں فوری طور پر سائنسی شعبے متعارف کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ جدید تعلیم تک رَسائی نوجوانوں کو بااِختیار بنانے اور دیگر علاقوں کے طلباءکے برابر مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے ضروری ہے۔اُنہوںنے صحت شعبے کے حوالے سے مینڈھر حلقے میں محکمہ صحت میں موجودہ خالی اَسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے بھرتی کے عمل کو تیز کرنے اور صحت مراکز و ہسپتالوں میں مناسب عملے کی دستیابی یقینی بنانے کی تاکید کی تاکہ تمام رہائشیوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اُنہوں نے حلقے میں میڈیکل موبائل یونٹوں کے مو¿ثر اِستعمال پر بھی زور دیا تاکہ خانہ بدوش اور پسماندہ آبادیوں کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔وزیر زراعت جاوید احمد ڈار نے اَپنے حلقے سے متعلق مسائل کو اُجاگر کیا اور تمام تعلیمی اِداروں میں خالی اَسامیوں کو پُرکرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے ترک شدہ عمارتوں کا مسئلہ بھی اُٹھایا اور اُن کی تکمیل کے لئے مو¿ثر اَقدامات اُٹھانے پر زور دیا ۔ اُنہوں نے گورنمنٹ ڈِگری کالج بومئی، گرلز ہوسٹل واٹرگام اور روہامہ سے متعلق چند مسائل بھی اُٹھائے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے ایس ڈِی ایچ روہامہ کا مسئلہ بھی اُٹھایا اور متعلقہ اَفراد سے اِس کی تکمیل کے لئے فنڈز کا بندوبست کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے زمین دہندگان کو تاحال نہ ملنے والے معاوضے کا مسئلہ بھی اُٹھایا اور متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کریں۔وزیر تعلیم سکینہ اِیتو نے اُٹھائے گئے مسائل کو سنتے ہوئے زیر اِلتوا¿ منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت پر زور دیا اور یقین دِلایا کہ اُٹھائے گئے تمام مسائل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں حلقوں میں صحت اور تعلیمی اِداروں میں عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ موجودہ ہیومن ریسورسز کی منصفانہ تعیناتی اور مستقبل کی اَسامیوں کو بروقت پُر کرنے کے لئے مو¿ثر طریقہ کار تشکیل دیا جائے تاکہ ان حلقوں کے ہسپتال، صحت مراکز، سکول اور کالج مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کریں اورلوگوں کو بلا تعطل خدمات فراہم کی جا سکیں۔






