اتل ڈولو نے ایل ایس ڈی کے خلاف اٹھائے گئے کنٹینمنٹ اقدامات کا لیا جائیزہ
سرینگرانفومحکمہ زراعت کی پیداوار کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ( اے سی ایس ) اتل ڈولو محکمہ مویشی پالن پر زور دیا کہ وہ تمام دیہی علاقوں میں جہاں گانٹھ کی جلد کی بیماری ( ایل ایس ڈی ) پھیلی ہوئی ہے وہاں ویکسی نیشن اور فوگنگ کے عمل کو تیز کریں ۔ اجلاس میں انیمل ہسبنڈری ، سکاسٹ ، سی اے ایچ او ز اور متعلقہ محکموں کے دیگر افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں آو¿ٹ سٹیشن افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی ۔ اس موقع پر اے سی ایس نے تمام جانوروں کے ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ ویکسی نیشن اور دیگر نگرانی کے مقاصد کیلئے فیلڈ میں موجود رہیں تا کہ اس کام کی نگرانی اور پیشہ وارانہ طریقے سے انجام دیا جا سکے ۔ انہوں نے ان سے کہا کہ علاج کے پروٹوکول جو پہلے سے وضع اور گردش میں ہے اس کی سختی سے تعمیل کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سرکاری مقاصد کیلئے دفاتر میں تعینات ویٹر نری ڈاکٹروں کو ضرورت کی اس گھڑی میں لوگوں کی خدمت کیلئے فیلڈ میں بھیجا جانا چاہئیے ۔ مسٹر ڈولو نے انہیں آنے والے دنوں میں نمونے لینے اور جانچ میں اضافہ کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں دویژنوں میں ہر لیبارٹری سے روزانہ 200 ٹیسٹ کئے جائیں ۔ انہوں نے ہر ضلع میں ویکسی نیشن کے موجودہ رحجان اور اس کی پیش رفت کا نوٹس لیا ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے ہر ضلع سے ایل ایس ڈی کے فعال کیسز ، اب تک رپورٹ ہونے والے جانوروں کی اموات ، ٹیکے لگوانے ، جانوروں کے نمونے لینے ، ضلع میں اموات اور صحت یابی کی شرح کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے ڈائریکٹرز اور زرعی یونیورسٹیوں دونوں کو ہدایت دی کہ وہ ٹیمیں بنائیں جو کہ یو ٹی کے تمام اضلاع کا دورہ کریں اور انہیں ہر ضلع کے منظر نامے سے متعلق رپورٹس پیش کریں ۔ انہوں نے ان سے کہا کہ وہ اپنی تحقیق کے بعد دورہ کئے گئے ہر مقام پر اس بیماری سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے اپنی سفارشات بھی دیں ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے دونوں ڈائریکٹرز کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ اضلاع میں بیماری کی شدت اور زمینی ضروریات کے مطابق ویکسین کی خوراکیں فراہم کریں ۔ انہوں نے اضلاع میں ان کے اسٹورز اور وہاں محکمے کے پاس دستیاب سامان کا جائیزہ لیا ۔ انہوں نے ہر ضلع میں ویکسین کی تقسیم پر زور دیا تا کہ کہیں بھی اس کی کمی نہ ہو ۔ انہوں نے ان سے کہا کہ بیماری کا کوئی نیا مرکز کہیں بھی تیار نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ محکمہ کی طرف سے بیماری پر قابو پانے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو بتایا گیا کہ چرنے کے بعد پہاڑی علاقوں سے جانوروں کی نقل مکانی کی وجہ سے رپورٹ ہونے والے کیسوں کی تعداد میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے ۔ یہ مزید بتایا گیا کہ ہر علاقے اور حساس جانوروں میں ٹیکے لگانے اور فوگنگ کرنے سے آنے والے دنوں میں کیسز کم ہوں گے اور آخر کار یہ بیماری یو ٹی سے ختم ہو جائے گی ۔






