لیفٹنٹ گورنر نے یو ٹی میں ویجی لینس بیداری ہفتہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی
نئی دہلیجموں انفولفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے ویجی لینس بیداری ہفتہ کے یو ٹی سطح کے افتتاحی تقریب میں عملی طور پر شرکت کی ۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ کی قیادت کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے انتظامی سیکریٹریوں ، ڈویژنل کمشنروں ، ڈپٹی کمشنروں ، محکمہ جات کے سربراہوں ، سینئر افسران اور اہلکاروں کو پورے جموں و کشمیر کے یو ٹی میں ویجی لینس بیداری ہفتہ کے آغاز کے موقع پر دیانتداری کا عہد کروایا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ” یہ ہمارا عزم ہے کہ ہم بدعنوانی سے پاک جموں و کشمیر کی تعمیر کریں اور بدعنوانی میں ملوث کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا ۔ “ یہ دیکھتے ہوئے کہ بدعنوانی کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار فعال شہری ہے ، لفٹینٹ گورنر نے سب پر زور دیا کہ وہ ہاتھ ملائیں اور اس لعنت کو نظام کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عہد کریں ۔ اس موقع پر لفٹینٹ گورنر نے بھی راشٹریہ ایکتا دیوس پر لوگوں کو اپنی مبارکباد پیش کی اور بھارت رتن سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کی یومِ پیدائش پر خراج عقیدت پیش کیا ۔ سردار پٹیل ان اقدار کے مجسم ہیں جنہوں نے نہ صرف ہندوستان کو مربوط کیا بلکہ عوامی زندگی میں ایمانداری اور دیانتداری کی زندہ مثال بھی قائم کی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سرکاری اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بلا خوف و خطر اپنی خدمات سرانجام دیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ 2019 سے پہلے بدعنوانی یو ٹی میں ایک قبول شدہ سماجی معمول بن چکی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین برسوں میں عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جموں و کشمیر میں بدعنوانی سے پاک ایک نیا شفاف نظام قائم کیا گیا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے مزید کہا کہ اصلاح ، کارکردگی اور تبدیلی کا جو راستہ ہم نے چُنا ہے وہ آگے بڑھنے کا صحیح راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر اس سفر کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ زمینی سطح پر بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس نے گورننس میں شفافیت لائی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ گُڈ گورننس کے فوائد بغیر کسی امتیاز کے قطار میں کھڑے آخری فرد تک پہنچیں ۔ نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مضبوط کیا جا رہا ہے جس میں بے ترتیب پن اور صوابدید کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم خدمات کی ہموار فراہمی کیلئے ہر سطح پر موثر ، شفاف اور جوابدہ نظام کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ایمانداری ، دیانتداری اور اخلاقی اقدار معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں اور جموں و کشمیر کو آتم نربھر بننے کیلئے ہمیں ایک ایسے مستقبل کی تشکیل کیلئے مشترکہ عزائم کیلئے کام کرنا چاہئیے جس میں ہر کوئی بہتر زندگی اور ترقی کیلئے ان اقدار کو زندہ رکھے ۔ لفٹینٹ گورنر نے بدعنوانی سے متعلق معاملات کی روک تھام اور تحقیقات اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے انتھک کام کرنے پر اینٹی کورپشن بیورو کی تعریف کی ۔ انہوں نے اینٹی کورپشن بیورو سے کہا کہ وہ عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کیلئے دوگنا عزم کے ساتھ کام کرے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سسٹم میں مجرموں کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور اس سال 445 ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ میں چوکسی کا محکمہ وقت کی ضرورت ہے ۔ ہمیں بڑے اہداف کا تعین کرنا ہو گا اور اپنی سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور ٹائم لائن کے اندر اہداف حاصل کرنے کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ پالیسیوں اور فیصلہ سازی میں لوگوں کی شرکت ، ان کی ضروریات اور خواہشات کی عکاسی ہونی چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ تعصب کی بنیاد پر کسی کو کالی بھیڑ قرار نہیں دیا جانا چاہئیے اور کسی کو بھی بدعنوانی میں ملوث افراد کی حفاظت یا دفاع نہیں کرنا چاہئیے ، چاہے وہ کتنا ہی اعلیٰ درجے کا مجرم کیوں نہ ہو ۔ لفٹینٹ گورنر نے افسران سے کہا کہ پورے انتظامی سیٹ اپ کو انتظامیہ کے کام کو مزید موثر بنانے کیلئے ایک مشترکہ طریقہ اختیار کرنا چاہئیے ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور تمام اسٹیک ہولڈرز تک صحیح معلومات کی فراہمی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے انسداد بدعنوانی بیورو اور انتظامی محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں اور بدعنوانی کو روکنے میں ڈیجٹل پلیٹ فارم ، بگ ڈیٹا ٹیکنالوجی اور دیگر جدید ترین مداخلتوں کا بہترین استعمال کریں ۔ بدعنوانی کی لعنت کے خلاف زیادہ موثر لڑائی کیلئے بیداری اور عوامی شرکت کو ضروری قرار دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ، تعلیمی اداروں اور انسداد بدعنوانی بیورو کے ذریعے منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں اپنا اہم کردار ادا کریں اور کورپشن کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ رشوت مانگنے والے کسی اہلکار کے بارے میں بیورو کو مطلع کرنے کیلئے اے سی بی کے ہیلپ لائن نمبر کا استعمال کریں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے تمام عہدیداروں سے یہی توقع ہے کہ وہ پوری ایمانداری کے ساتھ کام کریں گے اور بدعنوانی کو کسی بھی طرح پنپنے نہ دیں گے ۔ لفٹینٹ گورنر نے افسران سے کہا کہ وہ بیک ٹو ولیج پروگرام کے دوران انسداد بدعنوانی بیورو کی ہیلپ لائن اور متعلقہ سرگرمیوں کی تشہیر کریں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی ای اے ایم ایس ایمپاورمنٹ پورٹل اور بدعنوانی کو روکنے اور نظام میں شفافیت لانے کیلئے حکومت کی دیگر کوششوں کے بارے میں معلومات عام آدمی تک پہنچنی چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے بیداری ہفتہ میں نئی نسل کے درمیان سماجی اقدار ، اخلاقی طرز عمل اور سماجی بہبود کے تئیں عزم کو پھیلانے کیلئے سرشار کوششیں کرنے پر زور دیا ۔ یو ٹی بھر میں راج بھون ، سرکاری دفاتر اور اداروں میں بھی دیانتداری کا عہد لیا گیا ۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا ، ڈائریکٹر اینٹی کورپشن بیورو جے اینڈ کے مسٹر آنند جین ، ڈویژنل کمشنرز ، ڈپٹی کمشنرز ، ایچ او ڈیز ، سینئر افسران اور اہلکاروں نے ذاتی طور پر اور ورچوئل موڈ کے ذریعے افتتاحی تقریب میں شرکت کی ۔






