سرینگر: اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے جموں کشمیر کے تمام متاثرین کو انصاف فراہم کرانے کےلئے مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ”جموں کشمیر میں تمام متاثرین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کےلئے مفاہمت ضروری ہے کیونکہ یہ خطہ 1987 سے تباہ ک±ن حالات سے جھوجھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا، ”اس عرصے میں تباہ شدہ حالات کے نتیجے میں یہاں بیواوں اور یتیموں کی ایک بڑی تعداد پیدا ہوگئی۔“ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اپنے چھانہ پورہ حلقہ انتخاب میں اپنی عوامی رابطہ مہم کے دوران میڈیا رپورٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ایک سوال کے جواب میں، سید محمد الطاف بخاری نے یقین دہانی کرائی کہ ”اگر اپنی پارٹی کو عوامی مینڈیٹ ملا تو یہ تمام زیر حراست افراد کو رہا کرنے اور الزامات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر تے ہوئے انصاف کی فراہمی کا آغاز کرے گی۔“انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اپنی پارٹی اگلی حکومت بناتی ہے، تو وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جموں و کشمیر میں ڈومیسائل کے حصول کے لیے اہلیت کے معیار کے لیے کم از کم 35 سال کی رہائش درکار ہو۔“جب ا±ن سے روایتی سیاسی جماعتوں کے اس الزام پر تبصرہ کرنے کےلئے کہا گیا کہ انجینئر رشید بی جے پی کے ایجنٹ ہیں اور وہ ایک سازش کے تحت جیل سے رہا ہوئے ہیں، تو سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ” مجھے یقین ہےکہ قیدیوں کی رہائی اللہ کو بھی پسند ہوگی۔ وہ جیل میں تھے اور انہیں عدالت کے احکامات کے تحت رہائی ملی ہے۔ اس پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا ہے۔“روایتی جماعتوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ یہ جماعتیں جموں کشمیر میں سالہا سال سے عوام کو درپیش مصائب کو مشکلات کی ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا، ”جب یہ جماعتیں اقتدار میں تھیں تو لاتعداد نوجوانوں کو ہلاک کیا گیا، ان گنت لوگوں کو پیلٹ گن کے استعمال کرکے بینائی سے محروم کیا گیا۔ نوجوانوں کو جیلوں میں بھیجنے اور ا±ن کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لئے دلی سے یہاں کوئی نہیں ا?یا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے نوجوانوں کو پولیس کی ویری فکیشن رپورٹس بھی نہیں مل پاتی ہیں، جو کہ نوکریاں یا پاسپورٹ حاصل کرنے کےلئے ضروری ہیں۔ اس ساری صورتحال کے لئے وہی لوگ ذمہ دار ہیں جو یہاں 1987 کے بعد اقتدار میں رہے ہیں۔“انہوں نے مزید کہا، ” افسوس کی بات ہے کہ 1996، 2002، 2009 اور 2014 میں بننے والی حکومتوں میں سے کوئی بھی متاثرین کے زخموں کا مداوا نہیں کرسکی۔ یہ تمام حکومتیں نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں ناکام رہیں۔“






